Home حالات حاضرہ آخر ایسا کیوں

آخر ایسا کیوں

0

آخر ایسا کیوں

تحریر :_ محمد رضوان احمد مصباحی

بروز سوموار بتاریخ : 21/11/2022 کو ایک جگہ مہمانی میں جانا ہوا خورد و نوش کے بعد عصر کی نماز کے لیے مسجد کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ دو لوگ اور بھی موجود تھے۔ اس وقت جماعت ہو چکی تھی۔ ہم لوگوں نے وُضو بنا کر دوسری جماعت کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ ایک عالم صاحب بھی ہماری جماعت میں شریک ہوئے۔ بعد نماز سلام، کلام اور مصافحہ بھی ہوا۔ مجھے اس وقت ماجرا سمجھ میں نہیں آیا، میں نے سوچا کہ شاید کسی کام میں مصروف تھے اس لیے جماعت ترک ہوگئی۔

لیکن حسن اتفاق دیکھیے کہ مغرب کی نماز کا وقت بھی ہوگیا اذان سنتے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانب مسجد چل پڑا، اقامت ہو چکی تھی اور امام صاحب نے تکبیر تحریمہ بھی پڑھ لی اور میں بھی اسی جماعت میں شریک ہو گیا۔ اب جب کہ امام صاحب نے قرآت شروع کی تو امام صاحب تو اپنی وجد میں قرآت کرتے رہے مگر میں اپنا سر دھنتا رہ گیا،سچ مانو تو ایک مکتب کا طالب علم بھی ان سے اچھا پڑھے گا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اب میرا سر پھٹ جائے گا

لیکن لوگوں کے درمیان جماعت میں شامل تھا اس لیے کچھ چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا سوائے کف افسوس ملنے کے۔ بالآخر بادل نخواستہ میں نے فرض نماز ادا کی اس کے بعد فوراً اپنی نماز دہرایا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ وہ عالم صاحب جماعت کے بعد تشریف لائے ہیں۔ میں سنن و نوافل ادا کرکے مکمل نماز سے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر ٹھر گیا اور عالم صاحب کا انتظار کرنے لگا۔

جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے اشارہ کر کے ان کو بلایا اور حسب سابق سلام، کلا، مصافحہ کے بعد میں ان کا مکان اور منصب پوچھا تو بولے کہ میں یہاں کا مقامی باشندہ ہوں گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ یہ میرا گھر ہے اور میں ایک عالم ہوں دارالعلوم سبحانیہ کرلا ممبئی سے میری فراغت ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ امام صاحب کون ہیں؟؟ تو جواب ملا کہ گاؤں کے منشی صاحب ہیں۔ اب تو سمجھو کہ جیسے میرا پارہ گرم ہو گیا ہو میں نے آگے پھر دریافت کیا کہ آپ کیوں نہیں نماز پڑھاتے ہیں؟؟؟ جب کہ آپ ایک عالم دین ہیں۔ آپ کی قرات اچھی ہوگی، آپ کے مخارج درست ہوں گے۔ سامنے والے کی قرآت تو جواز صلاۃ کے بھی مجاز نہیں ۔

لحن جلی اور خفی تو بہت دور کی بات یہاں ش اور س میں تمیز نہیں ہو پارہی ہے ۔آخر آپ کے نماز نہ پڑھانے کی وجہ بتائیں، کیا وجہ ہے؟؟؟؟ جواباً انہوں نے عرض کیا کہ میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس لیے میری یہاں کچھ بھی نہیں چلتی، میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ پرانے ہیں اور بہت دنوں سے یہی امامت کے منصب پر فائز ہیں اس لیے تا دم حیات یہی امام رہیں گے۔ پھر میں نے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ آپ نے امام صاحب کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی؟؟ تو عالم صاحب بولے کہ میں نے ان کو بھی سمجھایا اور کافی دلیلیں بھی دی مگر آن جناب ماننے کو تیار ہی نہیں۔ آخیر میں عاجز آکر مرتا کیا نہ کرتا میں نے جماعت ہی چھوڑ دی بعد جماعت تنہا نماز پڑھنے لگا۔ آخری سوال میں نے کیا کہ جمعہ میں خطاب کون کرتا ہے؟؟ تو جواب ملا کہ جمعہ میں خطاب نہیں ہوتا ۔ اور کہا جاتا ہے آپ مدرسہ سنبھالیں اور مسجد میں دخل اندازی نہ کریں ۔

اللہ اللہ اب ذرا آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر گہرائی سے سوچیں کہ ہمارے سماج کا مزاج کس قدر بدلتا جا رہا ہے صرف عمر دراز ہونے کی وجہ سے تقریباً سب لوگوں کی نماز بے کار جا رہی ہے، کسی کو کچھ خیال ہی نہیں ۔ نہ امام صاحب سمجھنے کو تیار اور نہ مقتدی اور سماج ماننے کو تیار ۔

نوٹ :

(1) : کیا ہمارے سماج میں صحیح اور غلط کی کوئی تمیز نہیں؟

(2):_ کیا ہمارے مدارس اور مساجد صرف سرمایہ داروں کے اشارے پر چلیں گے؟؟

(3):_ کیا غیر عالم کو عالم پر فوقیت ملے گی جب عالم باعمل بھی ہوں؟؟

(4): ہم منصب بھی سنبھالنا چاہتے ہیں پھر محنت بھی نہیں کرتے کہ کم از کم اس منصب کے مکمل لائق بن جائیں

(5): کیا ہم اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ :_ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ کے مقصد کو بھول گئے؟

(6) اور آخری بات سماج کا ہر آدمی صرف دین ہی کے معاملے میں کیوں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتا ہے؟؟ ہر ایک اپنے آپ کو مفتی، عالم، اور حافظ کیوں سمجھنے لگتا ہے؟؟

جب کہ دین کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا ۔ اس لیے خدارا دین کا اس طور پر مزاق بننے نہ دیں۔ اپنی مساجد اور مدارس کے لیے بہترین امام اور مدرس کا انتظام ان شاء اللہ العزیز نمازیں بھی درست ہوں گی، سماج بھی سدھرتا نظر آئے گا، اور برائیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا ۔ اللہ رب العزت اپنے حبیب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے صدقے میں ہم سب کو دین اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم

تحریر :_ محمد رضوان احمد مصباحی

صدر مدرس :_ مدرسہ مظاہر العلوم ،صفتہ بستی ،راج گڑھ ،جھاپا ،نیپال

رکن :_ البرکات ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، سیمانچل

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here