ازقلم : ڈاکٹر محمد رضا المصطفیٰ محراب و منبر کی اہمیت
محراب و منبر کی اہمیت
محراب کا لفظ حرب سے نکلا ہے یہ اسم ظرف ہے۔ حرب جنگ کو کہتے ہیں اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں میں جہاں پر سالار جنگ کھڑا ہو کر سپاہیوں کو ہدایت دیتا تھا
اس جگہ کا نام محراب ہوتا تھا یعنی جنگ کرنے کی جگہ جب اسلام کا نور اور اجالا پھوٹا تو اس لفظ محراب کو میدان جنگ سے مسجد میں میں منتقل کر دیا گیا اور اس کو ایک مستقل اور وجودی حیثیت دے دی گئی ۔
اب محراب کی متعین اور مخصوص جگہ پر سالار جنگ کے بجائے خطیب مسجد باطل قوتوں اور شیطانی حملوں کے خلاف مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ۔
ہر مسجد میں محراب و ممبر ہی ایسا مقام ہے جہاں پر خطیب مسلمانوں کے اصلاح احوال اور ظاہری و پوشیدہ دشمنوں کے حملوں اور فریب کاریوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہنا چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھڑی تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
آج مسلمان قوم بے حس ہو چکی ہے،اس کا بڑا سبب بےحس خطابت ہے۔ قو م لمبی تان کر غفلت کی نیند سو رہی ہے
اس لیے کہ جگانے والے بھی غفلت کی وادیوں میں سو رہے ہیں ۔۔۔۔دل مردہ ہوگئے ہیں۔۔۔۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ مردہ الفاظ دلوں پر اثر نہیں کرتے ۔ مسلمان خطبا کی خطابت مردہ ہو گئی ہے۔۔۔الفاظ سوز و تاثیر سے خالی ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔
لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب
مگر لذتِ شوق سے بے نصیب،
بیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوا
لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا،
بجھی عشق کی آگ ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے۔ ۔ ۔
وہ خطیب جو صاحب علم و عمل ہیں ان کے جوش، ولولے ،بیان کی حلاوت اور قلب و جگر کو گرما دینے والے جملے آج بھی تاثیر کا تیر بن کر سامعین کے دلوں کی دنیا زیر و زبر کر دیتے ہیں ۔
دلوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنیں پھوٹ جاتی ہیں، سینہ مدینہ بن جاتا ہے۔محراب و منبر کا درست استعمال کتنا موثر اور اس کی کتنی زیادہ برکات ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے :۔
ایک خطیب صاحب کو بعد مرگ کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا! اللہ تعالی نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟۔
اس نے جواب دیا کہ جو نسبت ایک کتے کی بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ ہوتی ہے میرا بھی اس طرح کا ہی معاملہ تھا ۔ کتا بھونک بھونک کر بھیڑوں کو بھیڑ ئیے کے شر اور شرارتوں کے بارے میں خبردار کرتا رہتا ہے یہی کچھ میں نے بھی کیا ۔
امت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھولی بھالی بھیڑوں کو نفس و شیطان اور اسلام دشمنوں کے مکروں ,فریبوں سے آگاہ کرتا رہا !۔
اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہی عمل قبول ہوا مالک حقیقی نے مجھ پر رحم فرمایا اسی عمل کے سبب میری بخشش فرما دی ۔ یہ بات ملفوظات اعلیٰ حضرت میں پڑھی تھی جس کو اپنے الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔
آج سے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر صاحب اور بابا جی نے تحفظ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے مسلمانوں میں جو دینی غیرت اور ملی حمیت پیدا کی اس کا بڑا سبب ان کی پر اثر خطابت ہے
خطابت انبیاے کرام کی وراثت ہے ۔اللہ تعالی کا ہر نبی خطیب ہوا ہے ۔ خطابت ایک مشن ہے ۔خطابت ایک جذبہ اور دائمی سرور ہے۔ ہم اپنے خطیب بھائیوں سے توقع کرتے ہیں کہ اپنی اپنی مساجد میں حالات کی ناہمواری اور معاشی تنگی کے باوجود قرآن و سنت کی تعلیمات کا ابلاغ کریں ۔ مساجد کو دارالعلم ،دارالقرآن، دارالایمان ،دارالارشاد بنائیں ۔
از قلم : ڈاکٹر محمد رضا المصطفی
00923444650892واٹس اپ نمبر
قسط وار مضمون آو اپنی اصلاح کریں ضرور پڑھیں
ان مضامین کو بھی پڑھیں
فکر اسلامی کی تشکیل اور پیغام شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ
کربلا کی دردناک داستاں صحیح تاریخ کی روشنی میں
پیغام کربلا شہادت امام حسین اعلان حق کا استعارہ ہے
فضائل اہل بیت وپنجتن پاک حادثہ کرب وبلا
محرم کی بے جا رسمیں اور ان کا شرعی حکم
ماہ محرم الحرام اور آج کا مسلمان