ازقلم: محمدصابرا لقادری فیضی حضور تاج الشریعہ اور محدث کبیر سے متعلق کچھ یادیں
حضور تاج الشریعہ اور محدث کبیر سے متعلق کچھ یادیں
یہ کوئی 1998 عیسوی کی بات ہےجب راقم السطور(محمدصابرالقادری فیضی) مدرسہ عربیہ فیض العلوم محمد أباد گوہنہ مٸو یوپی میں زیر تعلیم تھا حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ حکیم مفتی امجدعلی اعظمی گھوسی علیہ الرحمہ (مصنف بہارشریعت) کا عرس مبارک جہان سنیت کو دعوت نظارہ دے رہا تھا میں بھی طالبان علوم نبویہ کے ہمراہ گھوسی کے لیے کر و فرکے ساتھ روانہ ہوا۔
گھوسی پہونچے اور دوست و احباب سے علیک سلیک کے بعدمزار شریف پرحاضرہوے اور اعلی حضرت عظیم البرکت، مجدد دین وملت الحاج الشاہ امام احمد رضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کے بتاے ہوے طریقہ ، چار قدم کےفاصلے پر فاتحہ پڑھنا شروع کیا ،ابھی فاتحہ پڑھ ہی رہےتھےکہ میرےکانوں میں رس گھولتی ہوئی فضاٶں میں تیرتی ہوٸی یہ أوازئی کہ بریلی شریف کے عظیم شہزادہ کی أمد أمد ہے،میں نے کہا کون بریلی؟۔
کسی نےکہا وہی بریلی جومرکزاہل سنت وجماعت ہے، وہی بریلی جہاں حجة الاسلام علامہ الحاج الشاہ حامد رضاخان علیہ الرحمہ کامسکن ہے ، وہی بریلی جہاں حضورمفتٸ اعظم ہندعلامہ الشاہ مصطفی رضاخان علیہ الرحمہ کا دینی عظیم قلعہ ہے
وہی بریلی جہاں علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ کےوارث صاحب تصانیف کثیرہ ماہرعلوم عقلیہ ونقلیہ بحرالعلوم شیخ الاسلام والمسلمین سرکاراعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت الحاج الشاہ امام احمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کی أخری أرام گاہ ہے
انہیں کےشہزاہ کی أمدأ مد ہےجواپنی نوری کرنیں موقع بموقع دنیاۓسنیت پربکھیرتےرہتےہیں فرط مسرت سےجھوم اٹھاکہ اس نورانی چہرےکی زیارت سےشرفیابی ہوگی۔جب میں اس بھیڑکی طرف بڑھاتودیکھاکہ لاکھوں کا مجمع ٹھاٹھیں مارتا ہواٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے
اتنےمیں مجمع کوچیرتےپھاڑتےہوۓحضورتاج الشریعہ کی گاڑی فلک شگاف نعروں کی جھرمٹ میں رکتےہی اپنےقدوم میمنت لزوم سےجامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مٸویوپی کوفیضیاب کیا۔میں بھی بڑی کوششوں کےساتھ وہاں پہ پہونچاکہ دست بوسی کرسکوں لیکن بھیڑکی وجہ سےیہ ممکن نہ ہوسکا صرف حضرت کےنورانی چہرےکی زیارت ہوئی
جیسے ہی حضرت گاڑی سےباہرنکلے حضورمحدث کبیربڑےپرتپاک اندازمیں ملے۔عشاق ،زیارت،دست بوسی وقدم بوسی کےلیۓبیچین تھےچنانچہ میں نےدیکھاکہ محدث کبیرجسےدنیااستاذالعلما، ممتازالفقہا،سلطان الاساتذہ،علامہ الحاج الشاہ ضیاٶالمصطفیٰ صاحب قبلہ قادری امجدی شہزادہ صدرالشریعہ گھوسی کےنام سےجانتی ہے۔
وہ خانوادہ رضویہ کےچشم وچراغ مفسراعظم ہندعلامہ الشاہ ابراہیم رضاخان علیہ الرحمہ کےنورنظرلخت جگرتاج الشریعہ شیخ الاسلام والمسلمین حضورشیخ اختررضاخان قادری برکاتی ازہری بریلوی نوراللہ مرقدہ کے دست مبارک کوتھامے ہوے نعروں کی گونج میں اسٹیج پرپہونچے۔
علماے کرام وشعراۓ اسلام کی نعت ومنقبت اورتقاریرکے بعد حضورشیخ تاج الشریعہ نےدعاٸیہ کلمات اداکیے اورعالم اسلام کےامن وأشتی کےلیۓرقت أمیزدعافرمائی ازہری مہمان خانہ میں پروگرام کا اہتمام
سرکاراعلی حضرت امام عشق ومحبت امام احمدرضاخان قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کےعرس کےموقع پرازہری مہمان خانہ غالباً2004عیسوی علی الصبح بعدنمازفجرقرأن خوانی کا اہتمام ہوا،عرس رضوی میں تشریف لاے مقتدرہستیاں جلوہ افروزتھیں۔
ازہری مہمان خانہ لوگوں سےکھچاکھچ بھراہواتھاپروگرام کا أغازاللہ رب العزت کے مقدس کلام سے ہوا،ایک ننھا سا طالب علم عمرکوئی 8/یا9/برس کی رہی ہوگی جبّہ ودستارزیب تن کیے ہوے ماٸک پرتقریرکے لیے کھڑاہوا اس کے لباس سے یہ عیاں ہورہا تھا کہ کہیں اورکا نہیں بلکہ وہ جامعة الرّضا کا طالب علم ہے بہت ہی مسجع ومقفع جملوں کےساتھ خطیبانہ لب ولہجےاوردلاٸل وبراہین سےمزین گفتگوکررہاتھا ۔
سارےخطباے عظام وعلماے کرام حیرت زدہ ۔۔۔۔أنکھیں پھاڑکردیکھتےرہ گیۓ۔۔ میرے دل نے برجستہ کہا کہ یہ سب میرے مرشد کریم حضورتاج الشریعہ کی نگاہ نازکی برکت کا ثمرہ ہےکہ ایک ننھا سا بچہ بڑے بڑے علما و خطبا کے سامنے بے باکی کے ساتھ بول رہا ہےسبھوں نے اس بچے کو دعاٸیں دیں۔
یکے بعد دیگرے علما،خطبا کی تقریریں اورشعراکی نعتیں ہوتی رہیں اخیرمیں سلطان الاساتذہ،ممتاذالفقہاحضورمحدث کبیرعلامہ ضیاٶالمصطفیٰ قادری امجدی مدظلہ العالی ماٸک پررونق افروزہوۓمدلل ومفصل گفتگو کرتے ہوے فرمایا کہ تاج الشریعہ چشم وچراغ خاندان امام احمدرضاخاں ہیں
ویسے”عمرکےلحاظ سےتومجھ سےبہت چھوٹےہیں مگرعلم وعمل اورتفقہ فی الدین میں مجھ سےکوسوں دورأگےہیں“وقت کےمحدث اورجلیل القدرفقیہ ،تاج الشریعہ کےعلم وفضل اورتفقہ فی الدین کےخطبےاپنی زبان فیض ترجمان سے دیرہے ہوں اس کی بلندی اورعظمت رفتہ کا کیا پوچھنا،ساتھ ہی جنازے میں کروڑوں کی تعداد میں علما، فقہا،ادبا،شعرا،اصفیا،اتقیا، اطبا،اساتذہ،طلبہ،سیاسی، سماجی،فلاحی غرض کہ ہرطرح کے لوگوں کا ہجوم اس بات کی غماز ہےکہ أپ سبھوں کےم حبوب نظرتھے۔
تاج الشریعہ پروگرام کی أخری کڑی کی صورت میں حضور تاج الشریعہ بلا تاخیر مائک پرجلوہ بارہوے اورحمدوثناکےبعداپنی تقریرپرتنویرشروع کی اوربڑےہی منکسرالمزاجی کے ساتھ فرمانے لگےکہ علامہ ضیاٶالمصطفیٰ صاحب قبلہ امجدی مدظلہ العالی نےمیرے تعلق سے جوکچھ بھی فرمایا۔
میں اس اہل نہیں ہوں أپ سب مل کر”أمین “کہیں تاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کا اہل بناے ۔ اپناخطاب نایاب درازفرماتے ہوے ارشادفرمایا کہ بہت سے محبین ،مخلصین ،معتقدین، متوسلین،مریدین عزیزی عسجد میاں کومفتی عسجد رضا کہتے ہیں ۔
تومفتی بن کردیکھاٸیں اس لیے کہ میرے جد کریم سرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان قادری برکاتی فاضل بریلوی نوراللہ مرقدہ کوکسی نےخط لکھا اس میں بہت سارےالقابات کےساتھ ”حافظ“کا لاحقہ بھی تھا
تواعلیٰ حضرت کےضمیرنےانہیں للکارااوروہ ایک مہینےکے چند گھنٹوں میں حافظ قرأن ہوگیے
میں ”عسجد میاں “کو اپنا جانشین مقررکرتا ہوں اورسلسلہ رضویہ کی خلافت واجازت بھی سپرد کرتا ہوں اتنا سننا تھاکہ حضورمحدث کبیرخوشی ومسرت سےاچھل پڑے اوراپناعمامہ شریف سرسےاتار کر”عسجدمیاں“کے سر پہ ڈال دییے
اورفرمانےلگے کہ عسجد میاں اسٹیج پہ جب بھی تشریف لاٸیں توعمامہ پہن کرتشریف لاٸیں اورنعت پاک پڑھنے کی فرماٸش کی توعسجد میاں نےاپنی سریلی اورمدھورأوازمیں نعت پاک کا حسین گلدستہ سجایا جوازہری میاں سرکارکی کوشش تھی
ایسا محسوس ہورہا تھاکہ عسجد میاں نہیں بلکہ تاج الشریعہ پڑھ رہے ہیں پورے مجمع سےنعرہاۓ تکبیرورسالت کی صداٸیں گونجنے لگیں اورمجمع کےسارےلوگ عش عش کرنےلگے۔
دعا ہے کہ رب قدیرحضورتاج الشریعہ کےروحانی فیوض وبرکات ہم سبھوں پرقاٸم وداٸم فرماۓ اورجانشین تاج الشریعہ پیرطریقت رہبرراہ شریعت علامہ الحاج الشاہ مفتی عسجدرضاخان قادری برکاتی بریلوی قاضی القضاة فی الہند کو عمر خضر عطافرماے ”أمین“بجاہ النبی الامین ﷺ
محمدصابرالقادری کمہراروی
ایم اے کمہراروی
صدر رضا لائبریری کمہرار ، شیوہر ، بہار
9934981067
تصانیف حضور تاج الشریعہ کا تجزیاتی مطالعہ
حضور تاج الشریعہ علم و فضل کے مہ تاباں
حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز
حضور تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
حضور تاج الشریعہ مقبولیت عامہ اور جلوۂ تاباں
ان مضامین کو بھی پڑھیں
موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان
وجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی
موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل
آزمائش کا زمانہ ہے امت کو بچانا ہے
تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ
تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے
हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें