Home شخصیات طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

0
طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ
طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

تحریر: مفتی محمدعبدالرحیم نشترؔ فاروقی طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

طبیب دردعصیاں حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

کہنے کو تو لوگ اسے’’اختررضا‘‘ کہتے تھے لیکن وہ کسی چودھویں کے چاند سے کم نہ تھا، وہ ہلال عید سعید تھا، وہ بدرمنیربھی تھا، اس کی روشنی فلک سنیت کو جگمگارہی تھی، اس کی ضیاباریوں سے ایک عالم منور ہورہا تھا 

اس کی شعائیں آفتاب وماہتاب کوبھی شرمندہ کررہی تھیں، اس کی تابشیں زمین کی وسعتوں میں پھیل چکی تھیں، وہ جدھرسے گزرجاتاتھا، اس کی ایک جھلک پانے کو دیوانوں کاہجوم اکٹھا ہوجایا کرتا تھا، و ہ جہاں کہیں بھی جاتا تھا  اس کے پہنچنے سے پہلے اس کا ذکر وہاں پہنچ جایا کرتا تھا، حد تویہ ہے کہ جہاں وہ کبھی پہنچا ہی نہیں

وہاں بھی اس کاوالہانہ ذکرہورہاتھا، مجلس کوئی بھی ہواس کے ذکرسے خالی نہیں ہوتی،جلسہ کسی کابھی ہو،اس کی فکرسے سرشارہوتا، کانفرنس کیسی بھی ہو، کہیں بھی ہو، اس کا چرچہ ہی اسے کام یابیوں سےہمکنارکرتا ’’بستی

بستی ،قریہ قریہ ، تاج الشریعہ ، تاج الشریعہ : ع

زبان خلق کو نقارۂ خدا کہئے

ہندوپاک میں بہت سی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں کے لوگوں نے کبھی اس کودیکھا تک نہیں، لیکن اس کی عقیدت ان کے قلب وجگرکے نہاں خانوں میں رچی بسی ہوئی تھی، ان کے دلوں میں اس کی محبت کی شمع روشن تھی، وہ اس پرسوجان سے فدا وفریفتہ تھے

ذراسوچیے اورسردھنیےکہ بن دیکھے جب یہ عالم تھا تو دیدارکاعالم کیا ہوتا ؟۔

کون سادل ہے جس میں اس کی سحرآگیں محبت موجیں نہ لے رہی ہو، کون سی نگاہ ہے جس میں اس کی دیدوبازدیدکا سودا نہ سمایاہو، کون سی جاں ہے جو اس پرمرمٹنے کوحیات جاوداں نہ سمجھتی ہو، وہ رہتا توفرش گیتی پرتھا، مگربستاکروڑوں دلوں میں تھا، وہ چلتا پھرتا توزمین کے طول وعرض پرتھا مگرحکمرانی انسان کےقلب وجگرپرکرتاتھا۔

یہ محبت ،یہ عقیدت اوریہ دیوانگی اسے بزورطاقت وقوت نہیں حاصل ہوئی تھی، اس کے خواص کی فراہم کردہ بھی نہ تھی، یہ بس راضی برضائے الٰہی کا نتیجہ تھی، ناموس رسالت کی پہرےداری کاانعام تھی، احقاق حق اور ابطال  باطل کا ثمرہ تھی۔ عوام وخواص میںمقبولیت ایسی کہ محض چندساعتوں کے دیدارکے لئے لوگ ہزاروں کلومیٹر کا سفرطے کرتے اورگھنٹوں محوانتظاررہتے تھے، خلق خدا میں اس کاادب واحترام ایساکہ اکابرین بھی ادب بجالانے میں فخر محسوس کرتے تھے

رعب ودبدبہ ایساکہ شیروں کا جگر رکھنے والوں کوبھی جرأت لب کشائی نہ تھی، دنیاسے لاتعلقی کاعالم یہ تھاکہ اس دورمیں جہاں بیشتر لوگ اہل سیاست سے اپنے خوش گوار مراسم رکھنا مصلحت وقت اورتقاضہ عصر تصور کرتے ہیں۔

اور اس کے لیے وہ جائزکو ناجائز اورناجائزکو جائز، حق کوباطل اورباطل کوحق حتیٰ کہ ذاتی مفادکی دیوی کے چرنوں میں قومی مفادکی بلی تک چڑھادینے سے بھی گریزنہیں کرتے، وہیں وہ سیاسی افرادسے ملنا تک گوارانہیں کرتا تھا، حاکمان وقت بھی اس کے درپہ سوالی بن کر آئے مگر وہ ان کے شاہانہ کروفر سے نہ خائف ہوا، نہ مصلحت وقت کے تحت کبھی ان کی طرف مائل ہوا۔

لوگوں نے اس کے فتوے پر انگلی اٹھائی، مگر وہ خاموش رہا، لوگوں نے اس کی ذات پر توہین آمیز حملے کئے مگر وہ چپ رہا، کچھ لوگوں نے اسے ذہنی تکلیفیں پہنچائیں۔

مگر اس  نےکوئی پرواہ نہ کی، لیکن جیسے ہی کسی نے اللہ کے دین کو مسخ کرنے کی مذموم سعی کی، وہ سراپا سپر بن گیا، جیسے ہی کسی نے مصطفےٰ جان رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کی غلط تشریح کی، وہ مجسم احتجاج بن گیا اور جیسے ہی کسی نےشرعی احکام کی باطل توضیح کی اس کے تعاقب میں اس کاقلم سرپٹ دوڑپڑا۔

حق گوئی وبے باکی اس کاطرۂ امتیاز تھی، احقاق حق اورابطال باطل میںاس نے کبھی اپنے اوربے گانے کی تفریق نہیں کی، تصلّب فی الدین میں وہ یکتائے روزگارتھا

احکام شرعیہ میں اسے ادنیٰ سی بھی لچک برداشت نہیں تھی، وہ جوکرتاتھا وہی کہتا تھا اور جو کہتا تھا وہی کرتا تھا، اس کاظاہر وباطن یکساں تھا، کچھ لوگ اس کے تصلّب کو’’تشدد‘‘کانام دیتے اوردبی زبان میں یہ کہتے تھے کہ اس زمانے میںاتنی سختی مناسب نہیں

اس طرح تووہ بالکل اکیلے رہ جائیں گے اوروہ ایسی باتوں کے جواب میں صرف مسکرا کریہ کہتا کہ اگردنیامیں صرف ایک شخص بھی احکام شرع پرکاربند ہے تو وہی ’’سواداعظم ‘‘ہے۔

کبھی کبھی ایسے لوگوں کے جھانسےمیں کچھ اپنے بھی آجایا کرتے اورانھیں بھی لگنے لگتاکہ اس نے فلاں پرحکم لگادیا، فلاں صاحب پربھی حکم لگادیا، حدتویہ ہے کہ فلاں حضرت کی بھی کوئی رعایت نہیں کی جبکہ فلاں نے تو بڑا کام کیا ہے

اس طرح توسارےہی ہم سے کٹ جائیں گے اورہم بالکل اکیلے رہ جائیں گے، لیکن اس کے باوجودبھی دنیا نے بارہا دیکھا کہ وہ جہاں بھی جاتا خلق خدا کی بھیڑ امنڈ پڑتی، لوگ اس کی ایک جھلک پانے کو اپنی حیات مستعارکی معراج  تصورکرتے تھے، اس کا ہر آنے والا دن اس کے لیے ایک نئی آن بان شان اورشہرت ومقبولیت کے نئے باب کھولتا تھا۔

جب وہ اس خاک دان گیتی سےرخصت ہونے لگا تو جاتے جاتے اہل دنیا پر یہ حقیقت واضح کرتا گیا کہ لوگو! جو بندہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا پیکر بن کرجیتاہے، اس کا والی خود خدا ہوجاتا ہے اورجس کا خدا ہوجاتا ہے پھرتوساری خدائی اس کی ہوجاتی ہے

ساری دنیااس کی دیوانی ہوجاتی ہے، خلق خداکے دلوں میں اس محبت کی راسخ کردی جاتی ہے، جب تک وہ اس دنیائے رنگ وبومیں رہتاہے، خلق خداکاہجوم اسے اپنے جھرمٹ میں لئے رہتاہے اورجب وہ اس جہان فانی سے رخصت ہوتا ہے ۔

تو اہل جہاں کو’’الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ‘‘کاجلوہ دکھاتاہواجاتاہے کہ دیکھو اہل حق اپنی حیات میں اعلائے کلمۃ الحق بلندکرتے ہی ہیں، بعدممات بھی حق کی تفہیم کرتے ہیں گویازبان حال سے یہ اعلان کرجاتے ہیں  ؎۔

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا

میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا

جاتے جاتے لوگوں کویہ فلسفہ بھی سمجھاتے گئے کہ اہل حق کبھی تنہااوراکیلے نہیں ہوتے، دیکھو میرے جنازے کو!کیا یہ کسی ایسے شخص کاجنازہ ہے جواہل دنیاسے کٹ کربالکل تنہاہوگیاتھا

کیا یہ لاکھوں بندگان خدا کسی دنیاسے کٹے ہوئے فردپرو ارو نثارہو رہے ہیں، مخالفتوں کے شرکش طوفاں کے زدپہ بھی حق کی شمع روشن کرنے والے مردحق آگاہ کے لیے اللہ اپنی ساری مخلوق کو اسی طرح مسخر فرما دیتا ہے

اس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے روزروشن سے بھی زیادہ روشن حق اورناحق واضح فرما دیا۔

تحریر: مفتی محمدعبدالرحیم نشترؔفاروقی

ایڈیٹر : ماہنامہ سنی دنیا

ومفتی مرکزی دارالافتاء، بریلی شریف

زکوٰة احادیث کے آئینے میں
زکوٰة احادیث کے آئینے میں

یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔

ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here