تحریر: محمد زاہد علی مرکزی ام المؤمنین بھی خیر النساء بھی سیدۃ خدیجہ رضی اللہ عنھا
ام المؤمنین بھی خیر النساء بھی سیدۃ خدیجہ رضی اللہ عنھا
کل امت سے پہلے مسلماں ہوئیں یہ
تو گویا ہماری بڑی ماں ہوئیں یہ
اسلام کی وہ مقدس خاتون جس کی چمک صحرائے عرب جگمگا اٹھے، جس کے ایثار کی مثال کائنات نے نہ دیکھی، جس کی محبت نے کبھی شکوہ و شکایت کا موقع نہ دیا
جس کی عظمت کو خود رحمت عالم فخریہ بیان فرمائیں، جس کے ذکر پر کاشانہ نبوت کی عظیم کردار والیاں رشک فرمائیں، جن کو اللہ رب العزت خود سلام بھیجے، آقا علیہ السلام کی تمام اولاد سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے، آپ ہی سے ہوئیں، یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں اور آپ کی عظمت کے گن گائیں
… عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (اپنے زمانے میں) مریم سب سے افضل عورت تھیں اور (اس امت میں) خدیجہ سب سے افضل ہیں۔ (بخاری حدیث نمبر: 3815)
…. عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِيجَةَ لِکَثْرَةِ ذِکْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطّ
عروہ سیدہ عائشہ سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا کہ میں نے حضرت خدیجہ پر رشک کیا ہے کیوں کہ نبی ﷺ ان کا کثرت سے ذکر کرتے تھے اور میں نے ان کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔(بخاری حدیث نمبر: 6280)
آپ کا مقام رب کے یہاں کیا ہے یہ بھی بخاری کی اس حدیث میں دیکھیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ!۔
خدیجہ آپ کے پاس ایک برتن لیے آرہی ہیں جس میں سالن یا کھانے پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا جہاں نہ شور و ہنگامہ ہوگا اور نہ تکلیف و تھکن ہوگی. (بخاری نم 3820)۔
میں جب اس شفیق ماں کی سیرت طیبہ دیکھتا ہوں تو جذبات میں آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوجاتے ہیں کہ کس قدر شفیق ماں ہیں جنھوں نے اپنی جان، اپنا مال سب کچھ آقا علیہ السلام پر نچھاور فرما دیا تھا
نہ صرف یہ بل کہ آپ آقا علیہ السلام کی خدمت میں اس قدر پیش پیش ہوتیں کہ جب آقا علیہ السلام “غار حرا” سے گھر تشریف نہ لاتے تو یہ خود کچھ کھانے پینے کا سامان لے کر غار حرا پہنچ جاتیں، غار حرا کوئی چھوٹی موٹی آسان راستوں والی جگہ نہیں تھی، اس کا محل وقوع بھی دیکھیں اور آپ کی ہمت کی داد دیں
غار حرا
مکہ مکرمہ کے مشرق میں ساڑھے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک پہاڑ جس کے ایک غار (غار حرا) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعثت سے قبل عبادت کیا کرتے تھے۔
اور قرآن مجید کی پہلی وحی بھی اسی پہاڑ پر نازل ہوئی۔ یہ پہاڑ مکہ سے طائف جانے والے راستے پر سڑک سے کچھ میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سطح سمندر سے اس پہاڑی کی بلندی 639 میٹر ہے۔ جبل نور دامن میں کچھ پھیلاؤ رکھتا ہے اور پھر اس کے بعد قریباً سیدھا اوپر کو اٹھتا چلا گیا ہے تاہم اس کی چوٹی نوکیلی نہیں۔ پہاڑ کے دامن میں نصف کلومیٹر تک راستہ ہموار ہے اور آگے چڑھائی شروع ہو جاتی ہے۔
اوپر چڑھنے کا راستہ مشرقی سمت سے ہے اور چکر کھاتے ہوئے اوپر جاتا ہے۔(وکیپیڈیا)
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
(اعلیٰ حضرت)

فقیر جب اس پہاڑ کی اونچائی کو دیکھتا ہے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی بار بار آمد و رفت کا خیال دل میں آتا ہے تو اپنی اس شفیق، نیک طبیعت ماں کے لیے ہر لمحہ دل میں محبت بڑھتی جاتی ہے۔
اندازہ لگائیں 2،106 فٹ کی بلندی پر واقع یہ غار ہماری شفیق ماں نے کتنی بار سر کیا ہوگا؟۔
آج وہاں جانے کے لیے ایک لمحہ جوان آدمی کئی بار سوچتا ہے لیکن ہماری ماں آقا علیہ السلام کی محبت میں سیکڑوں بار اس پہاڑ پر آئی گئی ہوں گی، اس ماں کا ہم ذکر خیر نہ کریں تو یہ ہماری حرماں نصیبی ہی ہوگی
اللہ اس شفیق ماں کے صدقے میری ماں( مرحومہ خیر النساء) کی مغفرت فرما اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، کیونکہ اس ماں نے جیسے ہمیں پالا اور اس لائق بنایا ہے آج اگر ہوتیں تو انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں، بظاہر زندگی بھر آرام نہ پانے والی ماں کے جب آرام کے دن آنے تھے اس وقت وہ ہمارے پاس نہ رہیں،اللہ انھیں کروٹ کروٹ آرام نصیب فرمائے آمین ثم آمین
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
ان مضامین کو بھی پڑھیں
ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ نقوس و حیات
شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں
محمد ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
شان رسالت ﷺ میں توہین ناقابل برداشت
پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی
قرآن مجید ایک ناقبل تحریف کتاب
قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں
امام احمد رضا قادری : مجدد اعظم
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت
عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان