تحریر : محمد رضوان احمد مصباحی محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے گر اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت ہی ایمان کی جان اور شان ہے ۔ جس مسلمان کے اندر محبت رسول نہ ہو وہ ایمان کی حلاوت کو نہیں پا سکتا۔
وہ نام کا مسلمان تو ہو سکتا ہے مگر ایک سچا اور کامل مومن نہیں ہو سکتا ۔
قرآن پاک کو بغور پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے متعدد جگہ اپنی رضا اور خوشی کو اپنے محبوب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشی پر موقوف رکھا اور اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری قرار دیا ۔
خود سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بخاری شریف کی مشہور حدیث ہے : لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین تم میں سے کوئی کامل مومن اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اپنے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے ۔
مذکورہ بالا حدیث اور قرآن کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ محبت رسول اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ہی اصل ایمان ہے ۔
آج جب کہ دنیا میں اسلام مخالف طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت طرح طرح کے پروپیگنڈے پھیلا کر مذہب اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہیں
کبھی مسلمانوں کو جہادی بتا کر، کبھی قرآن پر حملے کرکے، تو کبھی ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھال کر سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کی جا رہی ہیں۔
ایسے میں کون ایسا مسلمان ہو گا جو اس کو برداشت کر سکے، کیوں کہ مسلمان ہر چیز تو برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی پسند نہیں کر سکتا ہے، اور نہ ہی اپنے حبیب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں ایک لفظ برداشت کر سکتا ہے ۔
مگر میں اپنے ضلع واسیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں خاص کر قوم کے لیڈر، نیتا اور بڑے بڑے سرکاری عہدے پر فائز ملازمین حضرات سے کیا ابھی تک آپ کی غیرت نہیں جاگی ہے؟؟ کیا آپ اپنے نبی سے پیار نہیں کرتے؟؟ کیا آپ کامل اور سچے مسلمان نہیں ہیں؟؟ ۔
کیا آپ کا عہدہ اور منصب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاداری سے بھی بڑھ کر ہے؟؟؟ پورے ملک کے لوگ جانتے ہیں ضلع کشن گنج مسلم اکثریتی علاقوں میں سے بڑا علاقہ ہے اور اللہ کے فضل سے
M. L. A.
سے لے کر
M. P.
سبھی حضرات مسلمان ہیں ۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کسی نے ابھی تک تحفظ ناموس رسالت کی خاطر دشمنان اسلام کے خلاف ایک بھی
F. I. R
درج کرائی ہے؟.
اگر نہیں تو کیوں؟؟؟۔
کیا ان لوگوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ ہم سے ہمارا عہد اور منصب چھین لیا جائے گا؟؟۔
یاد رکھیں عزت اور ذلت دینے والا صرف اللہ ہی کی ذات ہے “ وتعز من تشاء وتذل من تشاء ” دنیا کی طاقت سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر اللہ چاہے تو ابھی آپ کو عہدے گرا سکتا ہے ۔
مرنا سب کو ہے اگر آج آپ نے دفاع ناموس رسالت میں اپنا مونھ بند رکھا ایک لفظ بھی زبان سے نکالنے کی ہمت نہ ہوئی تو پھر قیامت کے دن اپنے نبی اور رب کو کون سا چہرہ دکھاؤگے؟ ۔
دنیا کا کوئی بھی عہدہ اور جاہ منصب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور وفاداری سے بڑھ کر نہیں
اس لیے آپ حضرات کی بارگاہ میں گزارش ہے کہ دشمنانِ اسلام اور گستاخ رسول صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ جگہ جگہ سے ایف ای آر درج کرائیں
گستاخ رسول کی ہر ناپاک عزائم کو ناکام کر دیں اور ہر حال میں اس کو واصل جہنم کر دیں ۔
گستاخ رسول کی ایک ہی سزا
سر تن سے جدا سر تن سے جدا
تحریر : محمد رضوان احمد مصباحی
ٹھاکر گنج ،کشن گنج ،بہار
مقیم حال : راج گڑھ جھاپا نیپال
+91 76699 97052
ان مضامین کو بھی پڑھیں
تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کی اولین ذمہ داری
تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے
شان رسالت ﷺ میں گستاخی ناقابل معافی
ہندی میں مضامین کے لیے کلک کریں
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع