تحریر:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشیدپور قرآن پاک سرا پا خیر ہی خیر ہے اس کے پیغام پر عمل کرو
قرآن پاک سرا پا خیر ہی خیر ہے اس کے پیغام پر عمل کرو
اللہ رب العزت کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید ساری دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدً لِّلْمُتَّقِین۔تر جمہ: وہ بلند رتبہ کتاب(قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔(کنزالایمان)
لَارَیْبَ : کوئی شک نہیں۔‘‘آیت کریمہ کے اس حصے میں قرآن مجید کا وصف خاص بیان کیا گیا کہ یہ ایسی بلند شان اور عظمت و شرف والی کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں کیوں کہ شک اس چیز میں ہوتا ہے۔
جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نہ ہو جب کہ قرآن پاک اپنی حقانیت کی ایسی واضح اور مضبوط دلیلیں رکھتا ہے جو ہر صاحبِ انصاف اور عقل مند انسان کو اس بات کا یقین کرنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ یہ کتاب حق اورسچ ہے
اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو جیسے اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل مخالف کے شک اور انکار کرنے سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔
قر آن مجید کی پہلی آیت ہی سے رب تعالیٰ نے پڑھنے کی تلقین فر مائی ہے:العلق:آیت1’’ پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘۔اُتْلُ مَآاُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰب:’’اے محبوب پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی(نازل) کی گئی ہے‘‘۔
رب تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو جب قر آن مجید کی تلاوت کی تلقین فر مائی تو اس سے اندازہ لگائیں کہ قرآن مجید کی تلاوت امتیوں کو بھی کر نا چاہیے،کیونکہ تلاوت قرآن مجید عبادت بھی ہے
اس میں لوگوں کے لیے وعظ ونصیحت بھی ہے اور اس میں احکام،آداب زندگی اور اخلاقی اچھائیوں کی تعلیم بھی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔قرآن مجید کے بے شمار اعجاز(معجزہ،کرشمہ) ہیں ایک مضمون یا ایک کتاب میں لکھنا ناممکن ہے کیونکہ یہ کلام الٰہی ہے الگ الگ اعجاز کو۔ ذیلی سرخی
Sub-Heading
بنا کر ایک ایک بات سے لوگوں کوآگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اللہ شرفِ قبولیت عطا فر مائے آمین۔
پورا قر آن اوصاف کا خزانہ ہے: قر آن کی بیشمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ قرآن مجید انسانوں کو نہ صرف سیدھا راستہ دکھاتا ہے اوربتاتا ہے بلکہ اس راستے پر چلانے اور منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لیے رہ نمائی بھی کرتا ہے۔
چناں چہ بہت ہی اچھوتے انداز میں یہ بات ذہن نشین کرائی جارہی ہے۔ وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰ ھَا فَاَلْھَمَھَافُجُوْرَھَاوَتَقْوٰ ھَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا۔ تر جمہ: قسم ہے نفس کی اور اس کے درست کرنے والے کی پھر اس کے دل میں ڈال دیا اس کی نافر مانی اور اس کی پارسائی کو۔ یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا اور یقینا نا مراد ہوا جس نے اس کو خاک میں دبادیا۔(القرآن91،آیت 10تا7)
آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرشخص کو نیک وبد،حق وباطل اور صحیح وغلط میں تمیز کرنے کا شعور عطا فر مایاہے۔ وہ اچھی اور بُری چیزوں میں پوری طرح امتیاز کرسکتا ہے۔ اس کا یہ مفہوم بتا یا گیا ہے کہ انسان میں نیکی کر نے اور برائی کرنے دونوں کی صلاحیتیں موجود ہیں، اب اس کی مرضی کہ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے یا برائی کو اختیار کرتا ہے۔
قرآن پاک سیکھو اور سکھاؤ: رب تعالیٰ نے قر آن پڑھنے کی تاکید اپنے محبوب ﷺ کو فر مائی۔ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے کہ حضورنے انہیں کوئی سورہ یا آیت بڑے اہتمام سے سکھائی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فر مایا: خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ ۔ ’’ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سیکھایا‘‘۔ (مسند احمد ،ج1 – ص88، بخاری ج،2 ص752،فضائل قرآن کا بیان حدیث621 – ابو دائود، ج:1ص229حدیثا1452۔مشکوٰۃ شریف،فضائل قرآن کا بیان، حدیث621 ) وغیرہ۔۔۔۔

اسی لیے اسلام میں حفظ قرآن پاک کی بہت اہمیت ہے کیونکہ قرآن اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور اعلیٰ وارفع ہیں اسی طرح قر آنی علوم کو جاننے والا بھی دنیا کے تمام افراد میں سب سے ممتاز اور کسی بھی علم کے جاننے والے سے افضل اور اعلیٰ ہے۔
سیکھنے کا حق سے مُراد یہ ہے کہ قرآنی علوم میں غور وفکر کرے اور اس کے احکام و معنیٰ اور اس کے حقائق کو پوری توجہ اور ذہنی وقلبی بیداری کے ساتھ سیکھے اور اس پر عمل کرے۔
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْ اٰنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا ۔ترجمہ: کیا یہ لوگ قر آن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے(لگے ہوئے) ہیں۔
تو کیا وہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یعنی جن کے دلوں میں نفاق کے قفل لگے ہیں وہ نہ تو قر آنِ کریم میں غورو فکر کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ ہدایت حاصل کر سکتے ہیں کیو نکہ ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں پہنچ ہی نہیں پاتی۔
تدبُّر قرآنِ پاک میں گہرے غور وخوض کو کہتے ہیں جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اور عقل ونقل کے حقیقی تقاضوں کے مطابق ہو۔ یقینا وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو قرآن کو پڑھتے اور اس میں غورو فکر بھی کرتے ہیں۔اور اس کی تلاوت بار بار کرتے ہیں اس کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اس سے ملنے والے جوہرات سے اپنی جھولیاں بھرتے ہیں۔
یا الٰہی تیرا فر قاں ہے کہ اک عالم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں نکلا
رب تعالیٰ نے خود ہی قرآن پاک کی عظمت اور فضیلت کوبتا یا۔ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْ ا ھُوَخَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ ترجمہ: تم فر مائو: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔( القرآن،سورہ یونس:10،آیت58)۔
کسی پیاری اورمحبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کو ’’ فَرح‘‘ (خوشی،شادمانی، دل کا خوش ہونا) کہتے ہیں
اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ کے فضل ورحمت پر خوش ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں نصیحتیں،سینوں کی شفاء اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت وسکون عطافر مایا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے کیا مُراد ہے اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں
چناں چہ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنھُما نے فر مایا کے اللہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قر آن مراد ہے۔( تفسیر خازن،ج:2 /320)
تلاوتِ قرآن کرنے والے مومنوں کی صفات: اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات یہ بیان فر مائی ہے کہ وہ توجہ اورشرائط کو مدِّ نظر رکھ کر قر آن مجید پڑھتے ہیں اور تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں۔ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلاَوَتِہِ أُوْلَـئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمن یَکْفُرْ بِہِ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ( القر آن،سورہ بقرہ:2 آیت121) ۔
تر جمہ:وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسے پڑھنے کا حق ہے،وہی لوگ اس(کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا انکار کررہے ہیں سو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ قرآن وہ نام ہے جو خود خدائے تعالیٰ نے پیغمبر اسلام ﷺ پر نازل فر مائی او ر ’’ قرآن مجید‘‘ نام دیا قر آن کا لفظ قر آن میں68 جگہ استعمال ہواہے۔
قرآن نسل انسانی کے لیے آخری شریعت پر مشتمل کتاب ہے ،کلام الٰہی ’’ قرآن مجید‘‘ اسی معنی میں کہا گیا ہے،یعنی بہت زیادہ پڑھی جانے والی کتاب! گویا قرآن کے نام میں ہی یہ پیشن گوئی موجود ہے کہ یہ کتاب کثرت سے پڑھی جائے گی اور عملاً ایسا ہی ہورہا ہے الحمد اللہ۔
اور بلا شبہ ساری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قر آن مجید ہی ہے۔
چناں چہ اِنسا ئیکلو پیڈیا برٹینیکا میں اسے
The most widely read book
قرار دیا گیا ہے اور لفظ قر آن کے اندر کثرت تلاوت کی عظیم پیشگوئی کا اعتراف اس کے مخالف بھی کرتے ہیں۔
چناں چہ پروفیسر فلپ حتی اپنی کتاب تاریخ عرب میں لکھتے ہیں: ’’ اگر چہ قرآن مجید تاریخ کا دھارا بدل دینے والی کتابوں میں سب سے کم عمر ہے لیکن دنیا میں جتنی کتابیں لکھی گئیں ان سب میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ‘‘۔( تاریخ العرب ج،1ص:173-174) ۔
ایک اور مشرقی چار لس پوٹر نے لکھا ہے: ’’ دنیا کی کوئی کتاب اتنی پڑھی نہیں جاتی جتنا قر آن پڑھا جاتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ بائبل کی جلدیں زیادہ فروخت ہوتی ہوں مگر پیغمبر اسلام کے کروڑوں پیرو کار اِ ن کی لمبی لمبی آیات دن میں پانچ مرتبہ پڑھنا اس وقت شروع کردیتے ہیں جب وہ باتیں کرنا سیکھتے ہیں ‘‘۔(سیارہ ڈائجسٹ اپریل1970 ص371)
News Week
کی ایک رپورٹ کے مطابق بائبل کو دل چسپ بنانے کی کوششں جاری ہیں،العیاذ باللہ۔
قرآن سراسر سلامتی’’امن‘‘ اور اوصاف کا خزانہ ہے: قر آن کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک امتیازی خوبی یہ ہے کہ قرآن مجیدبالکل واضح،روشن،صاف،صاف باتیں بتانے والی کتاب ہے۔
قرآن سراپا اول سے اخیر تک روشنی ہے اور روشنی بھی وہ جو خدا کی طرف سے اتری ہے۔ اس کی بتائی ہوئی دکھائی ہوئی راہیں پوری کی پوری سلامتی ہیں قرآن اندھیرے پڑے ہوئے لوگوں کوروشنی میں لانا چاہتا ہے اور ان لوگوں کو جو ٹیرھے اورخطر ناک راستوں پر چل رہے ہو تے ہیں انہیں سیدھی راہ پر لانا چاہتا ہے۔
لیکن اس کتاب سے،اس نور سے فائدہ وہی لوگ اُٹھائیں گے جن کے پیش نظر خدا کی مرضی اور اس کی خوشنودی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔چنانچہ قر آن میں ارشادِباری تعالیٰ ہے۔
یَا أَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَاء کُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْراً مِّمَّا کُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْکِتَابِ وَیَعْفُو عَن کَثِیْرٍ قَدْ جَاء کُم مِّنَ اللّہِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌ،یَہْدِیْ بِہِ اللّہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (القرآن،سورہ المائدہ:5،آیت15-16)
تر جمہ: اے کتاب والو بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فر ماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فر ماتے ہیں بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیااورروشن کتاب(16)۔
اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیروں روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھا تا ہے۔(کنزالایمان) یَھْدِیْ بِہِ اللّٰہ: اللّٰہ اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔
یہاں قرآن کی شان کا بیان ہے کہ اللہ رب العزت قر آن کے ذریعے اسے ہدایت عطا فر ماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجاتاہے اور جو اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں لگا دیتا ہے تو اللہ اسے کفر وشرک اور گناہوں کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اعمال صالحہ کے نور میں داخل فر مادیتاہے۔
قرآن کا بہت بڑا وصف یہ بھی ہے کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ وہ کلام الٰہی ہے۔ جس طرح سے خدا کی ذات مقدسہ تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے۔ٹھیک اُسی طرح قرآن بھی ہر طرح کے نقائص سے پاک ہے۔ جس طرح خدا کی ذات پاک اور اس کی ہستی ایک پُر کشش اور پُر اسرار ہستی ہے جس کی طرف قلوب کھنچتے ہیں اور جس کی خوبیوں کا احاطہ کرنا انسان کے بس سے بھی باہر ہے
ٹھیک اسی طرح قر آن میں بھی جذبات انسانی کے لیے بڑی جاذبیت اور کشش پائی جاتی ہے۔
قر آن وہ کلام ہے جس پر کبھی بھی کہنگی’’ پُرانہ پن‘‘ طاری نہیں ہوسکتی،قر آن وہ کلام ہے جو اہل ذوق کے لیے کبھی بے مزہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کتاب سے جتنا لگائو بڑھتا جائے گا اتنی ہی زیادہ یہ کتاب پُر کشش محسوس ہوگی۔ قر آن سرا پا خیر ہی خیر ہے ہوبھی کیوں نہیں؟ قر آن جو کلام الٰہی ہے۔
اور خدا سے خیر اور بھلائی ہی کی توقع کی جاسکتی ہے۔قرآن خود اپنا تعارف یوں کراتا ہے: تَنزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ، إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْن (القر آن،سورہ الزمر:39 ، آیت 2سے 1 ) ترجمہ:کتاب کا نازل فر مانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا،حکمت والا ہے بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کی عبادت کرو اسی کے بندے بن کر ۔
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب قر آن پاک کو نازل فر مانا اس اللہ تعا لیٰ کی طرف سے ہے جو عزت والا، حکمت والاہے، لہٰذا تم اسے غور سے سنو اور اس کے احکامات پر عمل کرو کہ یہ کتاب عزیز، اسے بھیجنے والا عزیز، اسے لے کر آنے ولا فرشتہ عزیز اور جس پر نازل ہوئی وہ بھی عزیز ہے۔
قر آن کتابِ محفوظ ہے: قرآن پاک واحد وہ آسمانی کتاب ہے جواصلی حالت میں ہے ،جس میں کسی قسم کی تحریف نہ ہوسکی۔ اور آنے والی صبح قیامت تک محفوظ رہے گی ،اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے
آہوں سے سوز عشق مٹایا نہیں جائے گا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ا للہ کی باتیں بدلتی نہیں، یہی بڑی کام یابی ہے۔( القر آن،سورہ یونس:10آیت64) ۔
پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان کتابوں کے حامل انسانوں پر ڈالی گئی تھی۔ اس کے برعکس قرآن کے بارہ میں حافظ کا لفظ آیا ہے یعنی حفاظت کرنے ولا: اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ واِ نَّا لَہُ لَحٰفِظُوْنَ ۔ تر جمہ: بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (القرآن،سورحجر : 15 آیت 9) ۔
قرآن مجید وحی الٰہی کی آخری کتاب ہے اس کو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے اس کے وجود سے دنیا کا نظام قائم ہے اس کو اُٹھا لیے جانے کے ساتھ نظام کائنات کو بھی ختم کردیا جائے گا۔
پوری دنیا کے انسانوں کو خطاب کرکے یہ دعویٰ کیا گیا ’’کہ اگر تم قر آن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس جیسا کلام دکھلاو صرف انسان نہیں جنات کو بھی ملالو‘‘۔(بنی اسرائیل88) چودہ سو سال سے یہ چیلنج للکار ساری انسانیت کو دیا جارہا ہے
مگر آج تک کوئی اس جیسی اور اس میعار کی کوئی ایک ہی آیت نہ بنا سکا اور نہ ہی قیامت تک بنا سکے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی تعریف میں یہ فر مایا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِ ہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجاً ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فر مائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی۔(القرآن،سورہ کھف:18آیت1)
اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَاھُوَبِالْھَزْلِ ۔ بے شک قرآن ضرور فیصلہ کردینے والا کلام ہے۔ اور وہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔(القرآن،سورہ طارق:86 آیت13-14) وغیرہ وغیرہ۔
قرآن کے مخالفین کتے کی دُم ہیں: کتے کی دُم کبھی سیدھی نہیں ہوتی ہے،کتے کی دُم بارہ سال نلکی میں رکھی تب بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی: جس طرح کتے کی دُم سیدھی نہیں کی جاسکتی اسی طرح ناہنجار، کمینے شخص،نطفہ حرام شخص سے بھی کبھی اچھی بات کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔تیل کے مقابلے میں گھی بہتر مانا جاتا ہے۔
پچنا یعنی جلدی ہضم ہوتا ہے۔ مشہور ہے کہ کتَّا اگر گھی پی لے تو اس کو بد ہضمی ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہواکہ اوچھے،نالی کے گندے کیڑے کی طرح رہنے والے کو اچھوں کی صحبت راس نہیں آتی ہے اور وہ اس کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔ یہی حال حرام کے پِلّے و۔۔۔س۔۔۔ی ۔۔۔ر ۔۔ کا ہے۔
آسمان کی طرف تھوکنے والے کو اپنا ہی تھوک چہرے پر ملنا پڑتا ہے،اور سورج کی طرف دیکھنے والا اپنی آنکھوں کی روشنی بھی گنوا دیتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ’’ عقل مند را اشارہ کافی است ؟‘‘ میرے اوپر مسلسل ہمارے اپنوں کا بہت دباو تھا کہ قر آن مجید پر کیس کرنے والے و۔۔۔ س۔۔ی کے خلاف زبردست مضمون لکھیں۔الحمد للہ ناچیز نے تابڑ توڑ مضامین لکھے
۔(1) قر آن کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں
۔(2) قر آن کریم تمام انسانوں کے لیے امن و انصاف کی کتاب
۔(3) قر آن کریم انسانی ہدایت کا سر چشمہ: دو شائع ہو چکے تیسرا عن قریب شائع ہو گا ان شا اللہ تعالیٰ
پھر بھی کئی مخلص حضرات جیسے حضرت مفتی اختر رضا شیخ الحدیث، مدرسہ ضیاء الا سلام،قصبہ مورانواں، ضلع انائو،یوپی، مولانا مقتدر اشرف فریدی صاحب، مدرس مدرسہ ضیاء لا سلام۔ (یاد رہے یہ میرا آبائی وطن ہے میری شروع کی تعلیم اسی مدرسہ سے ہوئی، فراغت الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے ہوئی)۔
حافظ امام الدین صاحب، حضرت مولانا مدثر حسین اشرفی مہاراشٹر وغیرہ کاحکم ہوا تو یہ چوتھا مضمون : ’’قر آن پاک سرا پا خیر ہی خیر ہے! اس کے پیغام پر عمل کرو‘‘ لکھنے بیٹھ گیا الحمدُللہ الحمدُ للہ، قرآن پاک کے خلاف یہ کوئی پہلی بار بیہود گی نہیں ہوئی ہے۔
کسی ملعون نے اپنی کمینگی کا اظہار کیا ہے،1985 میں چاند مل طوپڑا نام کے ایک خبیث نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی کہ( نعوذ با للہ) پورے قرآن پر ہی پابندی کا مطالبہ کیا تھا،اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں مسلمانوں میں ہیجان پیدا ہوگیا تھا ۔
جیسے کہ آج و۔۔۔ س ۔۔۔ی کی عر ضی پر پیدا ہوا ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے ’’ جسٹس براک‘‘ نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ سماعت کے لیے تھا، ذرا سی دیر میں فیصلہ سنا دیا کہ کسی آسمانی کتاب پر مقدمہ نہیں چلا یا جا سکتا۔ تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے ہیں جب ظالم حکمرانوں نے اسلام کا خاتمہ کرنے کا بیڑا اُٹھا یا اور سب سے پہلے کتابِ مقدس قر آن پاک کو مٹانے کی کوشش کی
اس کی ہزاروں،لاکھوں کاپیاں تو جلادی گئیں،دریا برد کر دی گئیں یا غائب کر دی گئیں، پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی روس اس کی زندہ مثال ہے جہاں قر آن پاک رکھنا جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ تو سینوں میں اس کی حفاظت کی گئی لوگ چھپ کر قر آن پڑھتے
تراویح رات کے آخیر حصہ میں پڑھتے،وہ کاغذ میں تو نہ رہا جب روس ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو حفاظِ کرام مارے خوشی کے سڑ کوں پر نکل کر قرآن پڑھنے لگے وغیرہ وغیرہ سینوں میں قر آن محفوظ رہا آج بھی کروڑوں سینوں میں قرآن محفوظ ہے آنے والی صبح قیامت تک محفوظ ر ہے گا اِن شا ء اللہ ۔
اس شر سے کئی خیر کے پہلو نکلے ہیں سب سے بڑا خیر کا پہلو تما م مسلک کے علما ے کرام نے ایک ساتھ اس مذموم کوشش کی مذمت کی و۔۔۔ س۔۔۔ ی ۔۔۔ اور اس کے بیک گرائونڈ سپوٹر سب کو منہ کی کھانی پڑی۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلک کی بنیا دپر مسلمانوں میں جو بھی اختلافات ہوں،لیکن قرآن کے معاملے میں سب متحد ہیں۔اس وقت ملک کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ساز شوں کا جو سیلاب ہے،اس کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ مسلمان متحد ہوکر مقابلہ کریں تو تمام دشمنوں کی ہوا کھڑی ہو جائے گی۔قرآن کاواضح پیغام ہے وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعا(سورہ آل عمران:آیت: 103)۔
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لواور آپس میں فرقوں میں تقسیم نہ ہوجاؤ جیسے یہود ونصاریٰ نے فرقے بنالیے تھے۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فر مائے آمین اور میری یہ چھوٹی سی کوشش قبول فر مائے ۔ گَر قَبُول اِفْتَد زَہے عِزْ و شَرَف۔آمین
الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی
خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ
اسلام نگر، کپالی
پوسٹ:پارڈیہہ ،مانگو
جمشیدپور(جھارکھنڈ)پن ۸۳۱۰۲۰
رابطہ : 09431332338
hhmhashim786@gmail.com
ان مضامین کو بھی پڑھیں
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت
