Home حالات حاضرہ قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے

قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے

0
قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے
قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے

تحریر: عبد الخالق اشرفی راج محلی قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے

قرآن کریم امن و امان کا درس دیتا ہے

نادانوں
قرآن کریم شر و فساد اور آنتکواد کا زبردست مخالف ہے لیکن جس طرح ملریا زدہ شخص کو میٹھا دودھ کڑوا معلوم ہوتا ہے اسی طرح تمہارے قلبی امراض ، اسلام دشمنی ، بغض و عناد اور حب جاہ و مال نے تمہارے دماغ و مزاج کو فاسد کردیا ہے اس لیے تم اصلاح کو فساد سمجھتے ہو 

عورتوں کی آبروریزی اور ان کا قتل ، ان کی حق تلفی ، انکو میراث سے محروم رکھنا ، پیدا ہوتے ہی ان کو زندہ دفن کردینا یا ماں کے گربھ ہی میں ا سے ضائع کردینا ، بیواؤں کو منحوس سمجھنا – کیا یہ پاپ اور فساد نہیں ہے ؟ ان کی عزت و آبرو ، ان کی جان و مال اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے کس نے آواز بلند کی ؟ ۔

ا ان کی عزت لوٹنے والے درندوں کی سزا سب سے پہلے کس نے مقرر کی ؟ اسلام ، قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے  اگر آج بھی زانیوں کو قانون قرآن کے مطابق سزا دی جائے تو دھیرے دھیرے عورتوں کے ساتھ یہ وحشیانہ سلوک پوری دنیا سے نیست و نابود ہوجائے 
چوری ، ڈکیتی ، شراب نوشی وغیرہ تمام برائیوں کے خلاف سب سے پہلے کس نے تحریک چلائی ، کس نے ان کی سزا تجویز کی اور ان کا سد باب کیا ؟

آہنسا ، پریم ، اخوت و محبت ، عدل و انصاف ، امن و امان ، مساوات ، حقوق العباد ، شفقت و رحمت ، انسانی ہمدردی اور احترام انسانیت کا پاٹھ کس نے پڑھایا ؟

کبر و نخوت ، فخر و غرور ، رنگ و نسل ، نسلی و علاقائی اور لسانی و قومی فرق و امتیاز کو مٹا کر تقوی کو معیار کرامت کس نے قرار دیا ؟ اسلام ، مقدس قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
تم کہتے ہو کہ اسلام ، دہشت ، آنتک اور جدال قتال کا درس دیتا ہے

ارے او نادانوں ! قرآن کا تو کھلا اعلان ہے ” من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا و من احیاھا فکانمآ احیا الناس جمیعا ” جس شخص نے بغیر جان کے بدلہ کے یا بغیر زمین میں فساد پھیلانے کے کسی ایک جان کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک شخص کو مرنے سے بچالیا گویا اس نے تمام انسانوں کو بچالیا – ( سورہ مائدہ ، آیت ٣٢ )

قرآن کریم کا کس قدر واضح فرمان ہے کہ کسی کو ناحق اور بے قصور عمدا قتل کرنا اتنا بڑا سنگین جرم ہے جو تمام انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے 

اور انسانی جان کی حفاظت اتنا اہم ہے کہ اگر کسی ظالم و قاتل کے چنگل سے کسی کو بچالیا یا آک میں جلنے یا پانی میں ڈوبنے سے بچا لیا یا بھوک و پیاس سے مر رہاتھا اس کو کھانا کھلادیا ، پانی پلادیا یا سردی سے ٹھٹھر کر مرنے والا تھا اس کو اس ہلاکت سے بچالیا – تو یہ نیکی اتنی عظیم ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو موت کے چنگل سے آزاد کرالیا 

نادانوں ! دیکھو قرآن کریم کے نزدیک انسانی جان کی قدر و قیمت کیا ہے انسان تو انسان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھوکی پیاسی بلی و کتا کی جان بچانے والے کو جنت کی بشارت دی ہے اور ان کو بھوکا پیاسا رکھ کر مارنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے 

بخدا قرآن کریم رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے  امن و امان کا گہوارہ ہے  الفت و محبت کا سمندر ہے عدل و انصاف میں احکم الحاکمین کی عدالت عظمیٰ ہے  قتل وغارت ، شر و فساد اور دہشت و آنتک کو ختم کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے

بخدا اگر پوری دنیا میں تعلیمات قرآن عام ہوجائیں اور لوگ اس کے احکام پر کاربند ہوجائے تو تمام برائیاں صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجائیں  ایسی با برکت کتاب مقدس کی توہینِ اور اس میں تغیر و تبدل کی راہ نکالنے سے باز آ  یہ نا ممکن ہے

البتہ دنیا میں ذلت و خواری اور آخرت میں عذاب الیم کا باعث ضرور ہے

 تحریر: عبد الخالق اشرفی راج محلی

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذ٘مہ داریاں 

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here