افسانہ دو دوست اور بھارت کا نیوز چینل از قلم: محمد اظہر شمشاد مصباحی
دو دوست اور بھارت کا نیوز چینل
مونو شرما جی کا بیٹا اعلی دماغ کا حامل تو تھا ہی ساتھ ہی بہت سمجھ دار بھی تھا روز کرکٹ کھیلنے دوستوں کے ہمراہ میدان جایا کرتا اور ذہن و دماغ کو تازگی بخشتا
اس کا ایک عزیز دوست حامد جو اس کا ہم رفیق ہونے کے ساتھ ساتھ ہم درس بھی تھا دونوں طبیعت کے اعتبار سے کافی سلجھے ہوئے تھے کوئی اچھا کام ہو یا برا دونوں برابر کے شریک رہتے۔
خوشی کے موقع ہو غم کا مونو کے گھر حامد کی دعوت ہوتی اور عید میں حامد کے مونو کی دعوت ہوتی زندگی میں کوئی بھی پریشانی آتی دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر اسے پار کر لیتے۔
یوں ہی وقت گزرتا گیا اور الیکشن کا زمانہ آ گیا مونو کے والد شرما جی سیاسی پارٹی کے کارکن بھی تھے اس لیے الیکشن کے زمانے میں اور بھی متحرک وفعال ہو جاتے اور اس بار کا الیکشن بھی کافی دل چسپ ہونے والا تھا۔
کیوں کہ سرخیوں میں روز یہ خبر گردش کرتی کہ کیا اس بار ایک چائے والا بھارت کا پردھان منتری بنے گا کیا الیکشن جیت جانے کے بعد ایک چائے والا سوا ارب بھارتی صحیح و غلط طے کرے گا
جب حامد کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو وہ اپنے خیالوں میں غوطہ زن ہو گیا اور سوچنے لگا کہ جب ایک چائے والا اتنا بڑا بھارت چلا سکتا ہے تو پھر ہمیں تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت
کیوں کہ دیش چلانا کوئی چھوٹی بات نہیں اور میرے نزدیک تو سب سے بڑا کام یہی ہے وہ اپنے خیالوں میں زن تھا کہ باہر سے آواز آئی حامد! یہ آواز مونو کی تھی حامد فوراً باہر نکلا مونو چلو حامد کھیلنے چلتے ہیں ۔
حامد ہاں ہاں چلو کچھ دور چلنے کے بعد حامد نے اپنا خیال اپنے دوست کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگا کہ ہم ایسے شخص کو ووٹ کیوں دیں اس سے بہتر ہے کہ ہم کسی پڑھے لکھے شخص کو ووٹ دیں ۔
کیوں کہ ایک عالم اور جاہل میں بہت فرق ہوتا ہے اور دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور یہ ہمارے مقدس کتاب قرآن مجید میں بھی ہے کہ ایک جاہل اور عالم برابر نہیں ہو سکتے یہ بات مونو کے مزاج کے بر خلاف تھی اسے یہ بات پسند نہ آئی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مونو کے پاپا اسی پارٹی کے کارکن تھے ۔
جس کے خلاف حامد بول رہا تھا مونو نے بات بدلتے ہوئے کہا چھوڑو یہ سب بات ابھی تو ہماری عمر بھی نہیں ہوئی ہے ووٹ دینے کی حامد ہاں بات تو صحیح ہے دونوں ہنستے ہوئے میدان کی طرف بڑھنے لگتے ہیں کچھ ہی دنوں بعد الیکشن کا رزلٹ بھی آگیا ۔
اور یہ تاریخی فیصلہ آیا کہ پہلی بار کسی ملک کا پردھان منتری ایک چائے والا بنا ہے بھارت کے لوگوں نے ایک چائے والا کو پردھان منتری شاید یہ سوچ کر منتخب کیا ہوگا کہ ایک چائے بیچنے والے سے بہتر غریبی کون سمجھ سکتا ہے؟ ۔
اس نے غریبی کا دن دیکھا ہے اور غریب لوگوں کے دکھ درد کو سمجھے گا کیوں کہ ایک غریب ہی غریب کا درد بہتر سمجھ سکتا ہے نہ کہ مال دار ادھر مونو بھی بہت خوش تھا
اس کے پاپا شرما جی الیکشن جیت کر ودھایک بن چکے تھے اور خوب لڈو بانٹ رہے تھے مونو لڈو لے کر اپنے دوست حامد کے گھر آیا حامد نے بھی اس کے پاپا کے ودھایک بننے پر اسے مبارک باد دی
پھر حسب معمول دونوں زندگی بسر کرنے لگے تھے کہ ایک خبر نیشنل نیوز بن گئی کہ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان شخص کو محض اس لیے مار ڈالا کہ انہیں یہ شک تھا کہ اس کے گھر میں گاۓ کا گوشت تھا
اس خبر نے حامد کی طبیعت مضمحل کر دی چناں چہ اس موضوع پر حامد نے مونو سے گفتگو کی اور اس نے ان لوگوں کو برا بھلا کہا اس پر مونو برہم ہو گیا اور دونوں میں ہلکی نونک جھونک ہو گئی
لیکن معاملہ زیادہ نہیں بگڑا پھر کچھ دنوں بعد لو جہاد کا شوشہ چھڑ گیا اس پر بھی دونوں میں نوک جھونک ہو گئی
اب معاملہ یہ ہو گیا کہ روز کسی نہ کسی سیاسی موضوع پر دونوں میں بحث ہو جاتی ایک دن حامد کچھ زیادہ سخت ہو گیا اور اس نے موجودہ حکومت کی برائیوں کا انبار لگا دیا جس پر مونو کافی بھڑک گیا اور بات مار پیٹ تک پہنچ گئی
آس پاس کے لوگوں نے دونوں کو الگ کرایا اور دونوں اپنے اپنے گھر چلے گئے اب دونوں کی محبت نفرت میں تبدیل ہو گئی کل تک جو ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے اب ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارہ نہ کرتے
اب دونوں نے کھیلنا بھی چھوڑ دیا تھا اور دن بھر گھر ہی پر محفل جماے رکھتے پر حامد کے والد طبیعت شناس تھے انہوں نے حامد کی تکلیف پہچان لی اور وجہ دریافت کی پہلے تو حامد نے آنا کانی کی
لیکن پھر ساری بات کہہ ڈالی جب یہ ساری باتیں حامد کے والد نے سنی تو ان کی طبیعت مچل گئی اور پہلے تو انہوں نے حامد کو ڈانٹ پلائی اس کے بعد سمجھاتے ہوئے کہنے لگے ساری غلطی تمہاری ہے حامد جھنجھلاتے ہوئے وہ کیسے؟ ۔
تب اس کے والد نے کہا بیٹا یہ بتاؤ یہ باتیں شروع کس نے کی تھی حامد نے فوراً کہا میں نے کیا وہ اس موضوع پر تم سے گفتگو کرنا چاہتا تھا حامد نے سر ہلاتے ہوئے کہا نہیں
اس کے والد نے کہا اب غلطی کس کی ہوئی حامد ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کو بند کر کے میری پھر اس کے والد ناصحانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ تمام چیزیں جو تم نے مونو سے کہی یہ ضرور نیوز سے سنی ہوگی ۔
حامد سر ہلاتے ہوئے ہاں حامد کے والد تبھی تو سب سے پہلی بات تو یہ کہ کوئی بھی مذہب ہمیں آپس میں لڑنا نہیں سکھاتا بلکہ سب امن و صلح کا درس دیتے ہیں
لیکن سیاسی پارٹی کے لیڈران یہی چاہتے ہیں کہ ہم آپس میں لڑیں اور متحد نہ رہیں تاکہ یہ ہمیں لڑا کر بلا تکلف آسانی سے اپنی حکومت کو باقی رکھ سکیں
اگر ہم آپس میں نہ لڑیں اور متحد ہو کر رہیں تو پھر ان کے پاس کوئی سیاسی موضوع نہیں رہ جاے گا اور تب یہ ہندو مسلمان نہیں کر پائیں گے اور سب کا دھیان بے روزگاری اور سرکار کی نا کامیوں کی طرف ہو جائے گا
اور لوگ سرکار سے سوال کرنے لگیں گے جس کا جواب سرکار کے پاس ہے ہی نہیں اور اس طرح ان کی سرکار گر جائے گی سمجھ آئی بات۔
حامد : جی ابو ۔ حامد کے والد کیا سمجھ آیا حامد سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہمیں نیوز چینل دیکھنا ہی نہیں چاہیے کیوں کہ ساری گندگی ہماری دماغ میں یہی ڈالتے ہیں
اور دوسری بات تو یہ کہ ہمیں اس بے کار سی موضوع پر گفتگو کرکے آپس میں کبھی لڑنا نہیں چاہیے بلکہ ہمیں مل جل کر ایک ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے یہ کہتے ہوئے حامد دروازے کی طرف دوڑتا ہے حامد کے والد حامد! ۔
کہاں چلے حامد اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے ادھر مونو کی امی بھی کچھ اس طرح کی بات مونو کو سمجھاتی ہے اور کچھ نمکین دیتے ہوئے کہتی ہے اسے پاپا کے جو مہمان آے ہیں انہیں پیش کردو جیسے ہی وہ کمرے کے اندر داخل ہوتا ہے۔
اور اس کی نظر اپنے پاپا کے مہمانوں پر پڑتی ہے وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ کیا واقعی یہ وہی الگ الگ پارٹی کے سیاسی لیڈران ہیں جو نیوز چینلوں میں ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔
اور آپس میں دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور یہاں انتہائی خلوص و محبت کے چاے کی سسکیاں لے رہے ہیں وہ اسی خیال میں گم تھا کہ دروازے کی گھنی بجتی ہے
مونو وہ نمکین رکھ کر دروازے کی طرف جاتا ہے جیسے ہی دروازہ کھولتا ہے اسے سامنے حامد دکھائی دیتا ہے فوراً دونوں ایک دوسرے کو گلے لگا زار و قطار رونے لگتے ہیں
اور دوبارہ کبھی نہ لڑنے اور ہمیشہ آپس میں مل جل کر رہنے کا عہد وپیمان کرتے ہیں
یہ ملک ہندو مسلماں سبھی کا ہے
اظہر امن سے رہنا سکھاتا ہے پیارا ہندوستاں
از : محمد اظہر شمشاد مصباحی
حمید نگر برن پور بنگال
رابطہ نمبر 8436658850
ان مضامین کو بھی پڑھیں
دور حاضر کا مسلمان تباہی کے دہانے پر کیوں کچھ اہم اسباب
عصر حاضر میں خدمت خلق کی ضرورت و اہمیت
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع
