Home شخصیات آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف کی رحلت ایک زرین عہد کا خاتمہ

آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف کی رحلت ایک زرین عہد کا خاتمہ

0
آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف کی رحلت ایک زرین عہد کا خاتمہ
آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف کی رحلت ایک زرین عہد کا خاتمہ

از قلم ۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف کی رحلت ایک زرین عہد کا خاتمہ وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

آل رسول حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف

دنیاے سنیت کے لیے 2020عیسوی کا سال بڑا ہی المناک اور غم کا سال کے طور پہ یاد کیے جائیں گے وہ دن دور نہیں کہ موجودہ سال کے خاتمے کا چند دن ہی بچے ہیں اور یہ سال اپنے آخری مرحلے کو طے کررہا ہے اس سال کو دنیاے سنیت کافی دنوں تک یاد کرتے رہیں گے ۔

اس لیے کہ پوری دنیا جہاں کرونا،لاوک ڈاون کی وجہ سے کراہ رہی تھی وہہیں پورے ہندوستان کے مسلمان سی اے اے، این آرسی،بابری مسجد،تین طلاق کا قضیہ،مآب لنچنگ،گوکشی اور اب لو جہاد جیسے معاملات سے جھوجھ ہی رہے تھے کہ دنیاے سنیت ایک طرف اپنے عظیم رہبروں، قائدوں کو اپنے ماتھے کے سامنے کھوتے ہوے دیکھ کر پریشان اور غمگین ہورہے تھے تو کبھی ہندوستان کے عظیم قائد

خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی مجیب اشرف صاحب قبلہ (ناگ پور)۔

حضرت علامہ مفتی محمد معراج القادری صاحب قبلہ استاد الجامعتہ الاشرفیہ مبارک پور

شہنشاہ خطابت حافظ الحدیث حضرت علامہ ابو الحقانی صاحب قبلہ

اور خصوصیت کے ساتھ حال ہی میں پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضرت علامہ سید کمیل اشرف اشرف الجیلانی صاحب قبلہ کی رحلت دنیاے سنیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

ناچیز آخر کار سوچ وفکر کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوکر سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر کا2020 عیسوی سال علماے اہل سنت و جماعت اور پوری قوم و ملت کے لیے غم کا سال کیوں جارہاہے؟

اس طرح ہمارے درمیان سے جید جید علماے کرام و صلحاے عظام اور مفتیان دین متین کا دنیا اور ہمیں چھوڑ جانا ہمارے لیے کسی مصیبت اور پریشانی سے کم نہیں ہے ایسے ہی علمائے دین کے سلسلے میں فرمان عالیشان ہے کہ ” مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَمِ” یعنی ایک عالم کی موت پوری دنیا کی موت ہے ۔

آپ کی تعلیم
حضرت علامہ سید محمد کمیل اشرف صاحب قبلہ کی فراغت الجامعۃالاشرفیہ سے 1957عیسوی میں ہوئی ۔ آپ نے پوری زندگی قوم وملت کے رشد وہدایت کے لیے وعظ و نصیحت ، دعوت و تبلیغ اور دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے وقف کردی تھیں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہندوستان کی سرزمین پر اچھے خطیبوں میں آپ کا شمارہوا کرتا تھا۔

حضرت علامہ مصطفی رضا خان بریلوی عرف مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے زمانہ حیات میں آپ مفتی اعظم ہند کی موجودگی میں بڑے بڑے جلسوں اور محفلوں میں خطاب فرمایا کر تے تھے ۔

حضور مفتی اعظم ہند آپکی خطابت کو بڑی پسند فرمایا کرتے تھے ۔ اور آپ کو دیگر علماوں اور خطبوں کے بنسبت کافی عزت و شرف سے نوازتے اور ہو بھی کیوں نا جب کہ آل رسول کا ادب واحترام کرنا خانقاہ بریلی کی شروع سے ایک الگ پہچان رہی ہے

اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے حضرت علامہ اختر رضا خان رحمۃ اللہ علیہ عرف ازہری میاں، نبیرہ اعلیٰ حضرت علامہ شاہ سبطین رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیت آل رسول کے ساتھ کافی ادب واحترام کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے۔

کبھی کبھار اگر عمدہ خطیبوں کے پاس تاریخ خالی نہ ہوتی تو آپ حضرت سید کمیل اشرف صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کو دعوت دلاتے اور آپ حضرت کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے شریک پروگرام ہوتے ،آپ کی عمدہ خطابت ہوا کرتی تھی جو الحمدللہ نکات پر مشتمل رہاکرتی تھی

بڑی بڑی محفلین جلسے اور جلوس میں یقیناً آپ کی شرکت کام یاب وکامرانی کی ضمانت بن جایا کرتی تھی ۔

چند سالوں سے عمر ضعیفی کی وجہ سے محفلوں،جلسوں اور جلوس میں شرکت بہت کم کردیے تھے ۔

لیکن الحمدللہ آپ کی شرکت جن جلسوں میں ہوا کرتا تو سامعین آپ کی خطابت سماعت کرنے کے بعد خود کو ایک الگ کیف و سرور میں محو ومست ہو جایا کرتے تھے۔

آپ ایک عظیم پیر طریقت کی حیثیت رکھتیے تھے ۔ آپ اپنے والد گرامی حضرت سید طفیل اشرف اشرف الجیلانی علیہ الرحمہ کے مسند سجادگی پر فائز ہو کر پوری زندگی دین اسلام کے فرائض اور نشر و اشاعت میں مصروف عمل رہے ۔

ہندوستان کی عظیم الشان ریاست کہے جانے والا اتر پردیش کے بسکھاری میں دارالعلوم محبوب یزدانیکے نام آپ نے ایک عظیم ادارہ بھی قائم کیا ہے۔

جس میں دینی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی بند و بست ہے بہتر باصلاحیت اور ماہر اساتذہ کرام کی نگرانی میں شب وروز طالبان علوم نبویہ علم ادب حاصل کرنے پر مامور رہتے ہیں۔

آپ کے نام حضور حافظ ملت ایوارڈ

آپ کی دینی تبلیغی خدمات کے اعتراف میں شہزاد حضور حافظ ملت پیر طریقت رہبر راہ شریعت اخلاق حسنہ کا سراپا پیکر حضرت علامہ عبد الحفیظ مصباحی صاحب قبلہ سربراہ اعلیٰ الجامعتہ الاشرفیہ مبارک پور عربی یونیورسٹی کا سب سے بڑا اعزاز “حافظ ملت ایوارڈ” عرس حضور حافظ ملت کے موقع سے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔

آپ کا اخلاق کریمانہ

حضرت علیہ الرحمہ مکارم اخلاق کے پیکر عظیم ،حسن و جمال کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کے بہترین مرقع تھے اور اپنے سے بڑوں کے بڑے ہی قدردان تھے۔

مہمان نوازی ایسی کے انسان ان کی مہمان نوازی دیکھ لے تو زندگی بھر یاد رکھے ۔اسی سلسلے میں سراج الفقہا محقق عصر حاضر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ شیخ الحدیث و صدر المدرسین وشعبہ افتاء الجامعتہ الاشرفیہ مبارک پورعربی یونیورسٹی اپنے اپنے تعزیتی کلمات میں رقم طراز ہیں

حضرت پیر صاحب کی عنایتیں اور نوازشیں یاد ہیں ۔میں عروس البلاد ممبئی جب بھی جاتا آپ سے ملاقات ضرور کرتا ابھی سولہ روز پہلے ممبی جانا ہوا تو آپ کی عیادت اور مزاج پرسی کے لiے حاضر خدمت ہوا۔

نقاہت وضعف اور بیماری کے سبب پہلے جیسی خوش گوار ملاقات تو نہیں رہی لیکن اس حالت میں بھی آپ نے اس بے مایہ اور جامعہ اشرفیہ اور عزیز ملت اور اساتذہ اشرفیہ کے احوال و کوائف دریافت فرماے اوردونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی

اور سب کو سلام کہا پھر میں بڑے ادب کے ساتھ سلام کرکے رخصت ہوا۔

باہر یہ کہہ کر روک لیا گیا کہ حضرت پیر صاحب قبلہ نے چاے پلانے کے لیے فرمایا ہے میں ٹھہر گیا اور چاے نوشی کے وقفہ میں حضرت کی بیماری کے احوال معلوم کیے سب نے بڑی عزت کے ساتھ رخصت کیا۔

اگر سب سے وفات سے نہ صرف سلسلہ اشرف کیا بلکہ پوری دنیا کے نہیں بڑا خسارہ ہے اس کو بلند فرمائے اور ان کے مریدین اور متوسلین علی اور صبر جمیل عطا فرما کر اپنی برکات سے مالا مال فرمائے آمین اللہ علیہ وسلم۔

از قلم ۔ محمد اشفاق عالم نوری فیضی

رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال

شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136

رابطہ نمبر۔9007124164

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here