Homeشخصیاتدرس گاہ حافظ ملت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا

درس گاہ حافظ ملت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا

درس گاہ حافظ ملت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا

     مورخہ ۳ستمبر بروزجمعرات ۲۰۲۰ بذریعہ سوشل میڈیا یہ جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ تلمیذحضورحافظ ملت علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانامحمدامام الدین مصباحی نوراللہ مرقدہ ہمیں داغ رفاقت دےگئے اِنّالِلٰه وَاِنَّاالیه رٰجِعُو ن

حضرت موصوف 1958ء میں بارگاہ حافظ ملت سےدستارفضیلت سےنوازےگئے تھے آخری دم تک آپ مجلس شوری جامعہ اشرفیہ مبارک پورکے رکن تھےاللہ تعالی نے آپ کووہ صلاحیت عطافرمائ تھی کہ آپ ایک بہترین عالم دین اورمؤثرخطیب ہونےکےساتھ ساتھ صاحب تصنیف وتالیف بھی تھے وہابیوں کی قلعی کھول کرپڑاخچےاڑانےوالی کتاب (وہابی دھرم کی حقیقت اورحافظ ملت کافیضان نظر)۔

آپ کی یادگار اورمفید تصنیف ہےاہل سنت کے لیےآپ کی مذہبی اوردینی خدمات ناقابل فراموش ہے آپ کی ذات بابرکات نوجوان نسل کے علماے کرام کے لیے ایک راہنمایانہ اورقائدانہ مثال پیش کرتی تھی کہ  آپ نےآخری وقت تک  تجارت کو اپنا ذر یعۂ معاش بنا کرامات وخطابت، تصنیف وتالیف اور شرعی مسائل میں امور قضائت کی خدمات انجام دے کر عوام اہل سنت پراحسان عظیم فرماتے رہے

آپ کی رحلت ہمارےلیےباعث حسرت ہےادار افکاررضاآپ کےاہل وعیال کےساتھ شریک غم ہے اور دعاگوہے کہ اللہ تعالی آپ کی خدمات عالیہ کوقبول فرماکراپنی جواررحمت کےساتھ مکین جنت بنائےآمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ

شرکاے غم

مدیر اعلیٰ : ضیاء الحق قادری

مدیر: محمد اویس رضا قادری

اعزازی مدیر: طارق انور مصباحی

منیجنگ مدیر: غلام جیلانی مرکزی

اور

افکار رضا انٹر نیشنل اردو ویب سائٹ کی پوری ٹیم

درس گاہ حافظ ملت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا
درس گاہ حافظ ملت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا
afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن