تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف امریکا انگلینڈ کی افغانستان سے گھر واپسی
امریکا انگلینڈ کی افغانستان سے گھر واپسی
بیس سال بعد امریکا اور انگلینڈ کی فوج گھر واپسی کر رہی ہے، حال ہی میں امریکی صدر جو بائڈن نے اس کا اعلان کیا ہے کہ امریکا کہ 2500 _ 3500 افغانستان چھوڑ دیں گے، انگلینڈ کے بچے ہوے 750 فوجی بھی افغانستان کو الوداع کہیں گے
واپسی کی تاریخ 9/11 ہی کیوں ؟
امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ستمر 2001 میں حملہ ہوا تھا جسے القاعدہ کی جانب منسوب کیا گیا اور پھر افغانستان اور امریکا میں جنگ چھڑ گئی
افغانستان میں امریکا نے کٹھ پتلی سرکار بنائی اور اپنی فوج اتار دی، برٹین بھی اس میں ساتھ رہا اور بیس سال تک دونوں ملک اپنی زمین تلاش کرتے رہے، لیکن طالبان اور دیگر گروہوں نے مشترکہ فوج کو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا
اب جب یہ مشترکہ فوج گھر واپسی کر رہی ہے تو تاریخ وہی 9/11 ہے، ظاہر ہے دونوں ملک یہ تاریخ نہیں رکھنا چاہ رہے ہوں گے کیوں کہ اس سے ان کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے
لیکن افغانستان میں دونوں ملک اس قدر پسپا ہوے ہیں کہ انھیں اب افغانستان چھوڑنے کے لئے ہر شرط منظور ہے، یہ افغانیوں کی ذہنی فتح ہے اور دونوں ملکوں کی کھلی تذلیل، مگر کوئی چارہ نہیں ہے
۔ 20 سال، تین ملک، کسے کتنا نقصان
افغانستان میں گزشتہ بیس سالوں میں فوج اور اس کی حفاظت نہ صرف پیسہ خرچ ہوا ہے بل کہ انسانی خون بھی پانی کی طرح بہایا گیا ہے، امریکی فوج کے 2300 فوجی فوجی ہلاک ہوے ہیں اور بیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے، نیز برٹین کے 450 فوجی اور دیگر ممالک کے سیکڑوں فوجی ہلاک ہوے ہیں
یہ نقصان تو مشترکہ فوج کا ہوا ہے لیکن افغانیوں کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے، 60 ہزار سے زائد فوجی اور اس سے دوگنے لوگوں کی جان گئی ہے، مالی نقصان کا تخمینہ ہی مشکل ہے
Research group Action on Armed forces violence 2020
کے مطابق دنیا بھر میں دھماکہ خیز مواد سے ہونے والی موتوں میں آج بھی افغانستان ایک نمبر پر ہے، امریکا، برٹین کے دعوے کے ہم دہشت گردی کو ختم کردیں گے صرف وعدے ہی ثابت ہوے حقیقت پورے بیس سال اس کے برعکس ہی رہی ہے
کیا ہوا تیرا وعدہ ؟
افغانستان میں امن قائم کرنے کا وعدہ کرنے والے اور “گولی اور بولی” ساتھ نہیں چل سکتی کا نعرہ دینے والے آج ایک ہی میز پر بیٹھ کر سب کچھ فائنل کر رہے ہیں
امریکا، انگلینڈ افغانستان سے جو حاصل کرنا چاہتے تھے وہ حاصل نہیں کر سکے، نیز کئی ہزار فوجی اور ایک ٹرلین ڈالر کا بوجھ امریکیوں پر ٹیکسس کے ذریعے بڑھ گیا، فوجی افغانستان جانے سے انکاری ہوتے رہے، اس جیسی بہت سی وجوہات ہیں جو مشترکہ “گھر واپسی” کا سبب بنیں، افغانستان دنیا سے کم از کم 30 سال پیچھے ہوگیا، جیسا افغانستان وہ بنانا چاہتے تھے وہ تو نہیں بنا سکے
لیکن لاکھوں افراد بے گھر اور ہزاروں لقمہ اجل بن گئے، سوال اب بھی قائم ہے کہ امریکا، انگلینڈ نے کیا حاصل کیا؟ کیا لینے آئے تھے اور لے کر جارہے ہیں؟۔
کیا افغانستان سے طالبان یا القاعدہ جیسے گروپ ختم ہوے؟ یا پھر صرف اس بات پر تسلی ہے کہ ہم نے لاکھوں مسلمانوں کو تباہ کردیا، ہزاروں بچوں کو ماں باپ، بھائی بہن، عزیز و اقارب سے دور کردیا ہے!!!۔
تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین : تحریک علماے بندیل کھنڈ
رکن : روشن مستقبل دہلی
ان مضامین کو بھی پڑھیں
طبقہ بندی مفاسد و نقصانات اور شرعی احکام
تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ
