Homeحالات حاضرہمنصب امامت اور عوام کے حالات

منصب امامت اور عوام کے حالات

تحریر: محمد جنید رضا ،، منصب امامت اور عوام کے حالات

منصب امامت اور عوام کے حالات

مذہب اسلام میں امامت کا منصب بڑا ہی معزز و محترم منصب ہے۔ امامت وہی کرتا ہے جو قوم کا معزز اور صاحب علم شخص ہوتا ہے۔ اس بات سے بلکل واضح ہے کہ امامت اس دنیا کا ایک عظیم نصب ہے، اس لیے کہ یہ منصب بڑا نازک اور حساس ہے۔

اس کے تقاضے بہت اہم ہیں اور توقعات بہت زیادہ۔ اگر معاشرے کا جائزہ لیا جائے وہ ائمہ کرام میں اقدار مفقود نظر آتی ہے جو اس منصب کے لیے نہایت ضروری ہے تاہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عہدے کو جو عزت بخشی اور اس کی جو راہ عمل متعین کی ہے اس نے اس کی عظمت کو ختم نہیں ہونے دیا۔

اسلام نے اس کے شرائط و ضوابط متعین کردیئے تاکہ ہر کوئی اسے اپنا حق نہ سمجھے۔

لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کوئی منصب کیسا بھی جلیل القدر ہو اس کی عظمت خود عہدیدار کو ہی قائم رکھنی پڑتی ہے۔ اس سے جڑا ہوا انسان اس کی عظمت سے اسی وقت معظم بن سکتا ہے کہ وہ خود اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو وہ خود اگر اس عہدے کے تقاضوں اور نزاکت کا خیال نہیں کرتا تو اس منصب کی عظمت بلکہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنی کوتاہی اور بے حسی سے اس منصب کی اقدار کو ہی پامال کردے گا۔

امام کو لازمی طور پر ان خامیوں کو جاننا ہوگا جن کی وجہ سے مقتدیوں کی نگاہ میں اس کی عظمت میں کمی آئی ہے اور مقتدی حضرات اپنے آپ کو امام کا آقا و مولا سمجھتے ہیں۔

مقتدی حضرات کو بھی امام کا حق جاننا چاہیے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ امامت کا منصب بےحد بزرگی والا ہے جس کے بارے میں

 

 

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہوگا یعنی ان (مقتدیوں)پرنہیں۔(سنن ابن ماجہ ۹۸۳)۔

آج ائمہ مساجد کے ساتھ عوام کے رویوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ حالات کتنے افسوسناک ہیں۔ وہ شخص جو لوگوں کی نمازوں کی قبولیت کا وسیلہ و ذریعہ ہے، آج وہ مسجد میں ایک نوکر کی زندگی گزار رہا ہے۔

جس کی تنخواہ محض چار، پانچ ہزار ہوتی ہے اور وہ بھی اتنی دھونس کی کہ وہ نمازوں کے ساتھ ساتھ نیاز، دسویں کی فاتحہ، نماز جنازہ، نکاح، مسجد کی صفائی وغیرہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

مسجد کے باہر چوپال پر بیٹھنے والے لوگ جن کو نماز سے کوئی سروکار نہیں اماموں کے حالات پر بحث کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

نئے نئے مشورے کرتے ہیں کہ امام صاحب کو ایسا کرنا چاہیے، ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے،امام صاحب کی ذمہ داری ہے وغیرہ۔

بہت سی جگہوں پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اماموں پر دباؤ بناتے ہیں جس کی وجہ سے ائمہ مساجد حق گوئی سے گریز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ شخص بھی جس کے اپنے بچے نہیں سنتے ہو وہ بھی امام صاحب پر فرمانروا ہوتا ہے۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ امام صاحب کو کوئی پریشانی تو نہیں۔ انہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔

ان تمام چیزوں کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ جو بھی آتا ہے وہ اعتراض اور زبان طعن دراز کرتے ہے۔

اب بات کرتے ہیں امام صاحب کی تنخواہ پر جو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس تنخواہ میں ایک عام آدمی زندگی گزار نہیں سکتا اور اتنے اخراجات ہوتے ہیں جو اتنی مختصر سی تنخواہ میں ممکن نہیں۔

اماموں کے معاملات پر تو بہت بڑے زورشور پر ہوتی ہے۔ ان کی غلطیوں کو اجاگر کرنے کے لیے تو بڑی محفل منعقد ہوتی ہیں۔ کیا کبھی اس بات کو لے کر کوئی سنجیدہ ہوا کہ امام صاحب کو نذرانہ کتنا دینا چاہیے؟۔

کیا کسی نے اس بات کو اٹھایا کہ امام صاحب نے یہاں ایک عرصہ گزار دیا سب تعاون کرکے ان کو گھر مہیا کروادیں؟ مسجدوں میں لاکھوں کروڑوں لگانے کے لئے تو تیار رہتے ہیں کہ مسجد طرح طرح کے نقش و نگاری سے مزین ہو جائے کیوں کہ یہ اللہ کا گھر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ائمہ مساجد کے احوال سدھارنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

اس لیے کہ وہ مسجد کا ایسا ستون ہیں جن کے بغیر جماعت کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں۔

اور معاشرے میں امامت کی اہمیت کو اتنا کم سمجھا جاتا ہے کہ امام صاحب کا نام لیتے ہیں ایک عجیب وغریب تصور ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے۔ کہ امام وہی ہوتا ہے جو غریب ہوتا ہے۔ سادہ زندگی گزارنے والا جس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ جو ساری زندگی ایک چھوٹے سے حجرے میں گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ان کا بچہ امام بن گیا تو کھائے گا کیا وہ اپنے بچے کو غربت کے سمندر میں دھکیلتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کہ وہ اپنے مسجد کے امام کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں۔

اب ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ منصب جو نیابت رسول سے منسلک ہے، اس کے لیے ہم نے کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ امامت کے مسائل پر گفتگو ہونی چاہیے اس کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بٹھانی چاہیے۔ غرض اس مضمون سے یہ ہے کہ ائمہ کرام کے مسائل حل کیے جائیں۔

ان کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جائے۔ ان کو تجارت کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ خوش دلی سے اس منصب کی انجامدہی کریں۔ ائمہ حضرات کو بھی چاہیے کہ دین کی تبلیغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کریں، نوجوانوں کو دینی مسائل سے آگاہ کریں۔

ان کو دین پڑھانا بھی بہت بڑی تبلیغ ہے۔ جب ائمہ حضرات ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں تو حالات بدل جائیں گے۔ اس سے اصلاح کی امید ہے مولی تعالی ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین

تحریر: محمد جنید رضا

اسلامک اسکالر بریلی شریف ، یوپی

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات
زکوٰة احادیث کے آئینے میں
 

یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔

ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن