از قلم: محمد صدر عالم قادری مصباحی ماہ ربیع النور کی روحانی ضیاء باریاں
ماہ ربیع النور کی روحانی ضیاء باریاں
اسلامی سال کاتیسرامہینہ ربیع الاول شریف ہے،اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتداء میںاس کانام رکھاگیاتواس وقت موسم ربیع کی ابتدا تھی۔
یہ مہینہ خیرات وبرکات اورسعادتوں کامنبع ہے،کیوں کہ اس مہینہ کی بارہویں تاریخ کواللہ جل شانہ ٗنے اپنے فضل وکرم سے حضوررحمۃ للعٰلمین احمد مجتبیٰ محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کوپیدافرما کر اپنی نعمتوں کی بارش برسائی۔
اسی ماہ کی آٹھویں تاریخ کو حضور سیدعالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ۔اوراسی ماہ کی دسویں تاریخ کو محبوب کبریاﷺ نے اُم المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے نکاح فرمایاتھا۔
یکم ربیع الاول شریف کے نوافل
یکم ربیع الاول شریف بعد از نماز عشاء سولہ رکعت نفل آٹھ سلام سے پڑھیں۔ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعدسورۂ اخلاص تین تین مرتبہ پڑھیں۔ پھرسلام کے بعد ایک ہزار مرتبہ یہ درودپاک پڑھیں۔’’اللّٰھم صلی علیٰ محمدن النبی الامی ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ
ان نوافل کی بہت زیادہ فضیلت ہے ان شاء اللہ تعالیٰ نوافل اوردرودشریف کے پڑھنے والے اگر باوضو ہوکر سوئے تو رسول پاک ﷺ کی زیارت سے فیض یاب ہوں گے ۔(فضائل الشہور)۔
بارہ ربیع الاول شریف کے نوافل
اس ماہ مبارک کی بارہ تاریخ کو بعدنماز ظہر بہ نیت ہدیہ بروح اقدس بیس رکعت نفل دس سلام سے پڑھیں۔ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص اکیس اکیس مرتبہ پڑھیں۔
ربیع الاول شریف کی بارہویں ،تیرہویں اور چودہویں شب کو بعد نماز عشاء اس دعا کوسات ہزارسات سو اکتالیس مرتبہ پڑھیں۔اور وہ دعاء یہ ہے۔’’یابدیع العجائب بالخیریابدیع‘‘۔یہ دعا ترقی رزق کے لیے بہت افضل ہے۔

کائنات کی سب سے بااثر شخصیت کا ضرور مطالعہ کریں
ربیع الاول مبارک میں کثرت سے درود پاک: ماہ ربیع الاول شریف میںدرودشریف کثرت سے پڑھناچاہئے۔ایک روایت میں ہے کہ اس ماہِ مبارک میں تمام تاریخوں میں یہ درودپڑھیں۔’’اللّٰھم صل علیٰ محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید‘‘۔ دوسرا درود شریف :الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللّٰہ من اللّٰہ تعالیٰ وعبادہ اکثرمن عددِ مخلوقاتہ ‘‘۔اگرکوئی اس مبارک مہینے میں یہ درودشریف سوالاکھ مرتبہ پڑھے تو حضوراکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوگا۔
مشائخ عظام اورعلماء کرام فرماتے ہیں کہ حضورپُرنورشافع یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کاوقت ولادت باسعادت لیلۃ القدرسے بھی افضل ہے۔کیوں کہ لیلۃ القدرمیں فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اورولادت پاک کے وقت خود رحمۃ للعٰلمین شفیع المذنبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم تشریف لائے۔
جن کے واسطے تمام جہان پیداہوا۔نیزاللہ تبارک وتعالیٰ لیلۃ القدرمیںصرف اُمّت مسلمہ پرفضل وکرم فرماتاہے اورشب ولادت میں اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پراپنافضل وکرم فرمایا۔جیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے کہ:’’ائے محبوب ہم نے آپ کوسارے جہان کے لئے رحمت بناکربھیجا‘‘۔
بارہویں ربیع الاول شریف کویعنی ولادت پاک کے دن خوشی ومسرت کااظہارکرنا،مساکین کوکھاناکھلانا،میلادشریف کاجلوس نکالنا،جلسے منعقدکرنااورکثرت سے دروشریف پڑھنابڑاثواب ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ تمام سال کوامن وامان مرحمت فرمائے گااوراس کے تمام جائز مقاصدپوری فرمائے گا۔(ماثبت من السنۃ،ص59)۔
اس لئے مسلمانوں کوچاہئے کہ اس مہینہ مبارک میں بارہویں تاریخ کوبالخصوص اورباقی سال بالعموم میلادشریف کے مجالس منعقد کیا کریں۔ یہ محفل پاک ذریعۂ ہدایت اورحصول برکات ہوگی۔
حضرت عبدالواحدبن اسماعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص مصرمیں محفل میلاد منعقد کیا کرتا تھا۔اوراس کے پڑوس میں ایک یہودی رہتاتھا۔اس کی بیوی نے کہاکہ ہمارے پڑوس میں مسلمانوں کی کیاحالت ہے جوربیع الاول شریف میں بہت خرچ کرتاہے؟.
اس کے خاوندنے اسے بتایاکہ اس کے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم اسی مہینہ میں پیداہوئے ہیں۔لہٰذاوہ اس کی خوشی میں اوراپنے نبی کی ولادت کی تکریم کے واسطے یہ اہتمام کرتاہے۔مسلمانوں میں یہ ایک بہت اچھاطریقہ ہے
یہ کہ کروہ عورت سوگئی،تواس نے خواب میں ایک خوبصورت شخصیت کودیکھاجن کے چہرے سے ہیبت وجلال اورانوارنمایاہیںاوروہ ان کے پڑوسی مسلمان کے گھرتشریف لے گئے ہیں۔اوران کے اردگردان کے صحابہ کی ایک جماعت ہے جوان کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔عورت نے ایک شخص سے دریافت کیایہ کون بزرگ ہیں؟اس نے کہاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے مقدس رسول احمدمجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم ہیں جواس گھرمیں تشریف لائے ہیں۔تاکہ اہل خانہ کواپنے اسلام اورزیارت سے مشرف فرمائیں۔
اس عورت نے کہاکہ اگرمیں آپ سے کچھ کلام کروں توکیاوہ مجھ سے کلام فرمائیں گے۔اس نے کہاہاں ضرور!پس عورت نے آپ کے پاس حاضر ہوکر عرض کی یامحمد!ﷺ آپ ﷺ نے لبیک فرمایا۔عورت نے کہاکہ آپ ﷺ مجھ جیسی کو جواب سے نوازتے ہیں
حالاں کہ میں آپؐ کے دین (حق )پر نہیں ہوں بلکہ میں آپ کے دشمنوں یعنی یہودیوں سے ہوں،آپؐ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچانبی ؑ بناکر بھیجا ہے،میں نے تیری آواز پر جواب نہ دیا، یہاں تک کہ میں نے جان لیاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تجھ کو ہدایت نصیب فرمادی ہے۔
عورت نے کہاکہ بے شک آپ ﷺ سچے نبی ہیں اورصاحب خلق عظیم ہیں جس نے آپ ﷺ کی مخالفت کی اورآپؐ کی قدرنہ پہچانی وہ ہلاک اورذلیل ہوا۔میں شہادت دیتی ہوں کہ احمدمجتبیٰ محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم اللہ کے مقدس رسول ہیں یہ کہ کراس عورت نے اپنے دل میں یہ نیت کرلی کہ جب صبح ہوگی تووہ تمام چیزیں جومیری ملکیت میں ہیں صدقہ وخیرات کردوں گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی برکت سے مجھے اسلام کی نعمت عطافرمائی ہے۔
جب صبح ہوئی تواس نے اپنے خاوندکودیکھاکہ اس نے کھانے کااہتمام کیاہواہے اوربڑی مصروفیت میں ہے،عورت حیران رہ گئی اورکہاکہ میں تم کوعالی ہمت دیکھ رہی ہوں۔خاوندنے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تونے رات کو اسلام قبول کیا ہے۔عورت نے کہا:تمہیں اس کی کس طرح خبرہوئی؟خاوندنے کہامیں بھی تیرے بعد حضوراحمد مجتبیٰ محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کے دست اقدس پرمشرف بہ اسلام ہوگیاتھا۔
اللہ تعالیٰ ان پررحمتیں نازل فرمائے اوران کاشرف وکرامت اورزیادہ کرے۔جس طرح آپ ﷺ نے ہمیں اللہ جل شانہ کی معرفت سے آگاہ کیااوراس کی طرف بلایااورروزمحشرہماری شفاعت فرمائیں گے۔(المیلادالنبوی ابن جوزی،ص-60تذکرۃ الواعظین،ص200)۔
ابولہب جومشہور کافر تھا اورحضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وبارک وسلم کارشتہ میں چچا تھا۔ جب رحمۃ للعالمین ﷺ کی ولادت مبارک ہوئی تو ابولہب کی لونڈی ’’ثوبیہ‘‘نے آپﷺ کے ولادت باسعادت کی خوش خبری اپنے مالک ’’ابولہب ‘‘کوسنائی۔
تو ابولہب نے حضورﷺ کی ولادت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کردیا۔ جب ابولہب مرگیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا تو اس نے کہاکہ کفرکی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتارہوںمگراتنی بات ہے کہ ہرپیرکی رات عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے۔
اورجن انگلیوں سے میں نے اشارہ کرکے اپنی لونڈی کوآزادکیاتھااُن کے درمیان پانی آتاہے جسے میں چوستاہوں۔
علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ جب ابولہب کافرجس کی مذمت میں سورۂ لہب نازل ہوئی اس کویہ انعام ملا۔ توبتاؤ اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی منائے اس کی جزا اللہ کریم سے یہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اُسے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا۔الحمدللہ رب العٰلمین۔(ماثبت من السنۃ،ص60)۔
میلادپاک کرنااوراس میں محبت کرناایمان کی علامت ہے اورمیلادپاک کاثبوت قرآن مجید،احادیث طیبہ اوراقوال بزرگوں سے ہے۔میلاد شریف میں ہزاربرکتیں ہیں۔اس کوبدعت کہنادین سے ناواقفیت پرمبنی ہے۔
سب سے پہلے آپ کوجانناچاہئے کہ میلادکی حقیقت کیاہے؟۔میلاد،مولود،مولد۔یہ تینوں لفظ متقارب المعنی ہیں۔ میلاد کی حقیقت صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک جگہ جمع ہوں اورایک عالم دین ان کے سامنے حضورسراپانورشافع یوم النشورﷺ کی ولادت مبارک اورآپ کے معجزات اورآپ ؐکے اخلاق کریمہ صحیح روایت کے ساتھ بیان کرے۔اورآخرمیں بارگاہ رسالت میں درودوسلام باادب کھڑے ہوکرپیش کریں۔
اگرتوفیق ہوتوشیرنی پرفاتحہ دلاکرفقرا ومساکین کوکھلائیں۔احباب میں تقسیم کریں پھردعامانگ کراپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں۔ یہ تمام امورجوذکرکیے گیے ہیں قرآن وسنت اورعلماے امت کے اقوال سے ثابت ہیں صرف اللہ جل شانہٗ کی ہدایت کی ضرورت ہے۔ مولیٰ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو ماہ ربیع الاول شریف کی برکتوں سے مالامال فرمائے ۔آمین۔ بجاہ النبی الامینﷺ۔
تحریر: محمدصدرِعالم قادری مصباحیؔ
امام روشن مسجد،میسورروڈ،بنگلور
Mbile: 09620747322
اس کو بھی پڑھیں: اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلم معاشرہ
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع
