Homeشخصیاتتاج دار ولایت حضرت مسکین شاہ علیہ الرحمہ

تاج دار ولایت حضرت مسکین شاہ علیہ الرحمہ

تاج دار ولایت حضرت مسکین شاہ علیہ الرحمہ کا ۱۰۲ واں عرس مبارک

تاج دار ولایت حضرت مسکین شاہ علیہ الرحمہ

درویش نہ آنست کہ مشہور جہاں است درویش آنست کہ بے نام و نشاں است یہ شعر خلیفہ حضور غریب نواز حضرت صوفی حمید الدین ناگوری علیہ رحمہ سے منسوب ہے

مذکورہ شعر کا مطلب یہ ہے کہ درویش وہ نہیں ہوتا ہے جو شہرت یافتہ ہو بلکہ درویش وہ ہوتا ہے جو گمنام ہو اس مفہوم کے تناظر میں میں اگر ہم دادا مسکین شاہ علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ کے تابندہ نقوش کا بنظر غائر مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ رحمہ اللہ علیہ کی ذات گرامی مذکورہ شعر کی عملی تصویر تھی۔

دنیا بھلے آپ کاتفصیلی تعارف نہ کر سکی لیکن دنیا اس بات کو بھی جانتی ہے کہ مشک نہ زیادہ دیر تک چھپ سکتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے تعارف کا محتاج ہوتی ہے بعینہ حضرت والا کی ذات گرامی بھی کسی کے تعارف کا محتاج نہیں بلکہ خود اپنی نورانیت سے لوگوں کے قلوب و اذہان کو منور کرتی ہوئی نظر آتی ہے

لیکن سر دست اس زخم پر نمک چھڑکنا بھی عبث نہیں ہوگا کہ اس عدم تعارف کے ذمہ دار اہلیان برجو ہیں جو اپنی تساہلی و دین سے عدم رغبت کی بنا پر اللہ کے اس نیک بندے کا تفصیلی تعارف پیش کرنے سے قاصر رہے

جب کہ اس نیک بندے کے نام پر آج تک کئی ایک مدارس و مساجد قائم ہو جانی چاہیے اللہ تعالی میری قوم کی عظمت رفتہ کو بحال فرماے جب معاملہ ایسا ہے تو یہ بات محتاج اظہار نہیں کہ ان کے ملفوظات و تصنیفات منصہ شہود پر نہیں آسکے تو اس لیے بس مختصر تعارف پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں۔

آپ کا اصل نام محمد مسکین شاہ ہے آپ کی ولادت گاؤں دھنولہ ضلع برنالہ صوبہ پنجاب میں ہوئی آپ کی آمد اس علاقہ میں ہوئی جو جہالت کا مرکز بن چکا تھا نہ کسی کو فاتحہ کا طریقہ پتہ تھا نہ ہی کسی کو جنازے کی دعا یاد تھی معاشرہ دن بدن خرافات و ہفوات کے قعر عمیق میں غریق بدعات ہو رہا تھا

جہالت رقص عریاں کر رہی تھی حماقت و بربریت ننگا ناچ رہی تھی اسی اثناء میں باشندگان برجوکی بے چارگی پر رحمت رب ذیشان کو جوش آیا اور اس نے 25 سالہ نوجوان کو سحاب نور بنا کر اہلیان بجو پر سایہ فگن فرمایا کہ جس کی ایک بوند سے کتنے ہی مردہ دلوں کو حیات جاویداں نصیب ہوئی۔

یہ وہ نوجوان تھا کہ جس کی جوانی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نقطہ عروج پر تھی یہ ملکوتی صفات کا حامل پیکر بشری میں رشک ملائکہ بنا ہوا تھا یہ وہ نوجوان تھا کہ جس کی نگاہوں پرحیا کے پہرے تھے اور اس کی پیشانی سے طہارت نفس اور کردار کے تقدس کا نور جھلکتا تھا جدھر سے وہ گذرتا نگاہوں کے چراغ جلنے لگ جاتے بات کرتا تو موتی لٹاتا مسکراتا تو پھول برستے وہ ایسا دیوانہ تھا جو تن تنہا سیکڑوں فرزانوں پر فوقیت رکھتا تھا

لیکن اس کی یہ دیوانگی زلف لیلی کی نہیں تھی بلکہ ملت کے اعزاز و سربلندی کی تھی اس لیے ملت کے تیٔں آپ کایہ جذبہ آپ کو پنجاب کے لہلہاتے سبزوں سے برجو کی خاردار جھاڑیوں تک لے آیا بتاتے ہیں کہ جب آپ اس گاوں میں تشریف لاے تو ایک فرد بھی آپ سے آشنا نہیں تھا

لیکن آپ کی تشریف آوری سے اس قدر نور کا سماں بندھ گیا کہ اہلیان برجو کی توجہ آپ کی طرف منعطف ہوگی بتاتے ہیں کہ آپ کی وانی ,,آواز,, میں وہ کشش تھی کہ جو بھی آتا آپ کی محبت کا اسیر ہوجاتا پس ہر کوئی آپ سے محبت کرنے لگا آپ نے بھی ان کی محبتوں کی قدر کرتے ہوئے زمام اصلاح سنبھالی۔

کسے معلوم تھا کہ مستقبل قریب میں یہ لاغر بدن صوفیانہ اوصاف کا حامل عالم باعمل نہ فقط برجو بلکہ اس کے قرب و جوار کے مسلمانوں کے لیے ایک دن مسیحا بن کر ہویدا ہوں گے ,,ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ,, اور پھر آپ کا فیض اس قدر جاری ہوا کہ مانگی ہوئی ہر مراد آستانہ مسکینہ سے پوری ہونے لگی یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے یہ کوئی اٹکل پچھو بات نہیں ہے بلکہ اس پر معتمد و مستند افراد کا مشاہدہ شاہد ہے۔

اسی طرح حضرت کی کرامات بھی ہیں ,,حالاں کہ کرامت مدار ولایت نہیں ہوتیں ہیں ہاں نشان ولایت ضرور ہوتی ہیں ,, ان میں سے ایک یہ کرامت جس کو عند العوام بھی تلقی بالقبول حاصل ہے وہ یہ کہ 1918ءمیں ,,سپینش فلو ,, نامی ایک خطرناک وبا کی زد میں برجو کا علاقہ آگیا آپ نے بستی والوں سے ارشاد فرمایا کہ پچھم کی جانب سے اس بیماری سے متاثر ایک میت آئے گی خیر چاہتے ہو تو اس میت کو یہاں دفن مت کرنا ورنہ تمھارے یہاں بھی لاشوں کا ڈھیر لگ جائے گا

العوام کالانعام ہمیشہ اپنی جہالتوں کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں یہاں بھی اپنی دقیانوسی عقل کے گھوڑے دوڑانے لگے کہ موت کا تعلق کسی لاش کے پچھم یا پورب کی طرف سے آنے پر کیسے ہو سکتا ہے مگر حضرت کے قول کے مطابق میت آگئی

لیکن گاؤں والوں نے حضرت کے قول کا خلاف کرتے ہوئے میت کو گاوں ہی کے مقبرہ میں دفن کردیا یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا,,اب اللہ تعالی ہی ہماری حفاظت کرنے والا ہے ,, درویش کے فرمان کی خلاف ورزی کا یہ اثر ہوا کہ موتوں کا ایک سیلاب آگیا اور تین دن میں اس کثرت سے موتیں واقع ہوئیں کے موتی کے پسماندگان کے لیے تجہیز و تکفین ایک مشکل امر ہو گیا

اس دوران آپ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور 1981 میں ہی انتقال کر گئے,, انا للہ وانا الیہ رٰجعون ,, اور یہ تو ان پاک باز ہستیوں کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ جہاں پر قدم رنجہ ہوتے ہیں وہاں پر خانہ خدا کی تعمیر اپنے لیے فرض اولیں سمجھتے ہیں اس لیے جہاں ان درویشوں کے قدوم میمنت لزوم پڑتے ہیں وہ خطہ ارض رشک جناں بن جاتا ہے

لہذا آپ کے مزار کے پاس بھی مسجد اپنا نور بکھیر رہی ہے آپ کا عرس مبارک ہر سال انگریزی تاریخ کو منعقد ہوتا تھا مگر پچھلے سال 2019 میں حضور اشرف ملت سید محمد اشرف اشرفی الجیلانی کے حکم سے چاند کی 28 صفر کو مقرر کیا گیا گاوں والوں نے اس تبدیلی کو بسر و چشم قبول کرلیا

ہاں اس سال 28 صفر کو کورونا کی وجہ سے بجاے عرس کی تقریب میں شرکت کرنے کے اپنے اپنے گھروں میں ہی فاتحہ و ایصال ثواب کا انتظام کریں اس میں ہمارا بھی فائدہ ہے اور میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ حضرت کی روح بھی خوش ہوگی

کیوں کہ حضرت نے بھی اس طرح کی وبائی بیماری میں وصال فرمایا تو وہ اس بات کو کبھی نہیں پسند کریں گے کہ میرے عرس کی وجہ سے کوی وبائی مرض کا شکار ہو اور یہ وبا مزید فروغ پاے

از قلم . خلیل احمد گداے مسکین شاہ
فرمأش ,مشتاق احمد فیضانی

دینی،سماجی،اصلاحی وغیرہ مضامین پڑھنے کے لیے وزٹ کریں : افکار رضا

WWW.AFKARERAZ.COM

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar
afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن