Homeاحکام شریعتکربلا اور چلیسا سیمانچل میں رائج بدعات اور ان کی حقیقت

کربلا اور چلیسا سیمانچل میں رائج بدعات اور ان کی حقیقت

از قلم: انصار احمد مصباحی کربلا اور چلیسا سیمانچل میں رائج بدعات اور ان کی حقیقت

کربلا اور چلیسا سیمانچل میں رائج بدعات اور ان کی حقیقت

محرم الحرام میں کیا جائز کیا ناجائز
اس مبارک مہینے میں ہمارے علاقے میں بے شمار خرافات اور برائیاں پائی جاتی ہیں ، جن کا کتاب و سنت میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر ناجائز و حرام ہیں۔ ان میں سے جن کے بارے میں مجھے علم ہو سکا ہے وہ یہ ہیں

تعزیہ داری، ڈھول تاشے، اچھل کود، لہو و لعب، اکھاڑہ، ڈنڈی کا کھیل، عورتوں کی گیت گوئی، ستر کھول کر لاٹھی اور کشتی کھیل، اکھاڑہ پر چندہ، مرغا چھوڑنا وغیرہ۔
تعزیہ کا جو آج کل رواج ہے وہ سراسر ناجائز و حرام ہے۔ اس کے گرد لوگ چکر لگاتے ہیں ، اس کے سامنے منتیں مانگتے ہیں

اس کے پاس کی مٹی کو مبارک سمجھ کر بچے بوڑھے سب پیشانی پر لگاتے ہیں ، اسے چومتے ہیں، اس کو گاوں بھر میں گھماتے ہیں، اس کے نام پر نیازتقسیم کرتے ہیں ، یہ سب کام ناجائز و حرام ہیں۔ فاضل بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ”اب کہ تعزیہ داری طریقہ نامرضیہ (مروجہ یعنی طریقہ بالا) کا نام ہے قطعا بدعت و نا جائز و حرام ہے “۔ ( فتاوی رضویہ ج، 24 ، ص ، 513)۔

اکھاڑہ

اس میں ڈھول تاشے بجتے ہیں ، (اب تو ڈی جے بھی بجنے لگے ہیں) لوگ ستر کھول کر کشتی کھیلتے ہیں اور دیکھنے والوں میں پردہ نشیں عورتیں بھی ہوتی ہیں، اور کبھی کبھی ایک دوسرے کو مار بھی دیتے ہیں۔ یہ سب کام حرام ہیں۔ ایسا کرنے والے سخت گناہ گار اور عذاب الہی کے حقدار ہوتے ہیں۔ اکھاڑہ کھیلنے والے چندہ بھی وصول کرتے ہیں اور دینے والے دیتے بھی ہیں۔ یاد رہے ! ان پیسوں پر فاتحہ پڑھنا حرام اور ایسے کام کے لیے چندہ دینا بھی حرام ہے۔

جھوٹی روایات سننا اور پڑھنا

فتاوی رضویہ شریف میں ہے شہادت نامے (شہادت کے بیانات) جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایات باطلہ وبے سر وپا سے مملو، اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں۔ ایسے بیان کا پڑھنا اور سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور، مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقا حرام و ناجائز ہے (فتاوٰی رضویہ، 24، ص 514 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

مصنوعی کربلا

کربلا اس غیر آباد ریگستانی علاقہ کا نام تھا جہاں حضرت امام حسین اور دیگر جاں نثاران (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین) نے دنیا سے یزیدی برائیاں مٹانے کے خاطر اپنی جانوں کو قربان کر دی تھی؛ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان شہدا کا نعرہ لگانے والے آج اسی کربلا کے مبارک نام کو طرح طرح کی برائیوں کی آماج گاہ بنا لیے۔

اکھاڑے کو ساتھ لے کرمصنوعی کربلا تک ناچتے گاتے کودتے لڑتے جاتے ہیں اور فرضی کربلا میں مردوں اور عورتوں کا میلہ لگا رہتا ہے، وہاں جاکر اس من گھڑت کربلا کا چکر لگاتے ہیں

تبرکا وہاں کی مٹی اٹھا تے ہیں، وہاں ہر طرح کے کرتب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، بے پردہ لڑکیا ں اور عورتیں قطار میں کھڑی اس نظارہ سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔

ان سب کاموں کی بھی اسلام میں کوئی اجازت نہیں ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

عورتوں کی گیت : بعض جگہوں پر عورتیں ایک جگہ جمع ہوگر زورزور سے گیت گاتی ہیں، اور گول گول گھومتی رہتی ہیں۔ اگرچہ اس روایت میں کافی کمی آئی ہے، لیکن یہ بدعت بھی مٹی نہیں ہے۔ یہ سب غیر شرعی کام ہیں۔

نیز یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ عاشورہ کے دن مرغ پلاؤ ہی پکایا جائے۔ کسی بھی مباح کام کو اپنے اوپر ضروری کر لینا اور اسے ترک کرنے والوں کو برا بھلا کہنا جائز نہیں ہے۔

اس قوم کی دینی کاہلی دیکھیے! دینی محافل میں علما بلاتے ہیں تو جواب دیتی ہے، ”ہم گھر ہی سے سن لیتے ہیں“، لیکن خرافات میں اتنی مگن ہے کہ یوم شہادت ہی پر بس نہیں کیا؛ بلکہ خرافات کا یہ سلسلہ چہلم تک کھینچ لیا۔ افسوس! اللہ ہدایت دے!۔

شہداے کربلا کے چہلم کے موقع پر بھی خواتین و حضرات، بچے بوڑھے جوان مصنوعی کربلا حاضر ہوتے ہیں، ڈھول تاشے اور سامان لہو و لعب، آلات حرب ساتھ ہوتے ہیں، خوب ناچتے، اچھلتے کودتے ہیں، کرتب دکھاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں؛ چاروں طرف بے پردہ عورتوں کا ریلا ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں بڑی شر مندگی محسوس کر رہا ہوں کہ بدعات و خرافات کے ایسے جمگھٹے میں علما و حفاظ کہلانے والے بھی چند چہرے شامل ہوتے ہیں۔
فتاوی رضویہ شریف کی یہ عبارت پھر سے پڑھیے!۔
”مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے“ ۔ (فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔ 

جو لوگ اپنے گھروں سے بچے بچیوں کو من گڑھت کربلا بھیجیتے ہیں، انھیں بازار دیکھنے کے لیے پیسے دیتے ہیں، جانے سے نہیں روکتے یا کھڑے ہوکر تماشا دیکھتے ہیں، اس گناہ کے کام میں برابر کے شریک ہوں گے۔

علما اور مبلغین سے گزارش ہے کہ عوام کو روکیں! کم از کم اپنے ماتحت افراد خانہ کو سختی سے روکیں! مذہبی بالا دستی اور شعور کی تبدیلی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ (ان شاء اللہ تعالی)۔

(پورا مضمون عاشورا سے قبل شیئر کرنے کا ارادہ تھا، کسی وجہ سے نہیں ہو پایا، اب چہلم کی مناسبت سے کچھ حصہ آپ احباب کی نذر کیا جا رہا ہے )

تحریر: انصار احمد مصباحی
پرنسپل، دار العلوم نظامیہ رضویہ، گیورائی ایم پی
9860664476

اس کو بھی پڑھیں : ماہ محرم اور آج کا مسلمان

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar
afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن