Homeشخصیاتکچھ اندھیرا اور بڑھا

کچھ اندھیرا اور بڑھا

 اشرفیہ، مبارک پور کے مؤقر استاذ و مفتی، جامعہ اسلامیہ، روناہی کے نائب سربراہ اعلی اور فیض آباد کے قاضی شرع حضرت مفتی معراج القادری مصباحی کی رحلت پر یادوں کے دریچوں سے:۔ کچھ اندھیرا اور بڑھا

کچھ اندھیرا اور بڑھا

ایسا لگتا ہے لاک ڈاؤن کی وجہ سے عارضی طور پر مدرسوں کا علمی سلسلہ کیا ٹوٹا، قدرت روٹھ گئی۔ جس تیزی کے ساتھ یکے بعد دیگرے اہل علم رخصت ہوئے جاتے ہیں اور جس طرح بھارت میں وبائی اور سیاسی قیامت صغریٰ بپا ہے، حدیث میں ارشاد فرمودہ قیامت کی نشانی تازہ ہوئی جاتی ہے۔

آج چند دنوں کی مختصر علالت کے بعد ہمارے نہایت شفیق استاد اور خصوصی کرم فرما حضرت مفتی معراج القادری مصباحی بھی جاتے رہے۔ حضرت مولانا مفتی منظر مصطفیٰ اشرفی صاحب سے ٹیلی فونک مکالمہ چل رہا تھا کہ دریں اثنا انھوں نے حضرت والا کے وصال کی جاں کاہ خبر سنائی۔

گزشتہ کچھ دنوں سے حضرت کے لیے دعائیہ سلسلہ جاری تھا اور اسی بیچ قدرے رو بہ صحت ہونے کی خبریں بھی موصول ہوئیں، جن سے اطمینان ہوا لیکن آج کی اس خبر نے ایک آسمان توڑ ڈالا۔

حضرت مفتی صاحب قبلہ جامعہ اسلامیہ کی وجہ سے علمی دنیا میں اپنی جدا پہچان رکھنے والے معروف قصبہ روناہی سے تعلق رکھتے تھے، آپ نے وہیں درس نظامی کی تکمیل کی اور پھر وہیں اپنے ذوق کے مطابق معقولات کی تحقیق کرنے لگے لیکن ازہر ہند جامعہ اشرفیہ کی عظمتوں سے متاثر ہو کر یہاں تشریف لے آئے اور جب آئے تو ایسے آئے کہ تا دم نزع یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پہلے پہل مدرس قرار پائے، پھر حضرت شارح بخاری علیہ الرحمہ کی پسندیدگی اور تربیت سے مفتی ہوئے اور آخر میں نائب مفتی رہے۔

آپ جتنے بڑے مدرس تھے، اتنے ہی با کمال مفتی تھے اور ذوق کے اعتبار سے جتنے بڑے معقولی تھے، تربیت و مطالعہ کے اعتبار سے اتنے ہی قدر گراں مایہ فقیہ بھی۔

فقیر راقم الحروف کی حضرت والا سے پہلی ملاقات سن 2006 میں اس وقت ہوئی، جب روناہی میں زیر تعلیم تھا۔ جامعہ اشرفیہ کے مدرس ہونے کے باوجود آپ جامعہ اسلامیہ میں کسی نہ کسی جہت سے ہمیشہ موضوع گفتگو رہے اور یہ ملاقات در اصل اسی اثر کا اشتیاق تھا۔

اسی ملاقات کے عہد میں حضرت کی نگرانی میں روناہی میں ایک بڑی کانفرنس ہوئی، جس میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی صاحب قبلہ کی آمد ہوئی، اس کانفرنس کی نظامت کی ذمہ داری فقیر کے سر رہی۔

روناہی کے دور طالب علمی سے کئی دل چسپ یادیں وابستہ ہیں ازاں جملہ حضرت والا سے متعلق ایک بات جسے یاد کر کے آج بھی زیر لب مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے۔ وہاں کے ایک بزرگ کے عرس کے موقع پر مخلوط مشاعرہ تھا، جس میں شرکت مدرسے کے اصولوں کے مطابق سخت جرم تھی، لیکن رات گئے ادارے کی دیواریں پھلانگ کر طلبہ کی ایک بڑی تعداد مشاعرے میں پہنچ چکی تھی۔

اسٹیج شاعروں سے جگمگ تھا اور مشہور نقیب اجلاس انور جلال پوری ادبی جاہ و جلال کے ساتھ جادو گر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ حضرت مفتی معراج القادری صاحب اس مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے۔ کسی کے ذریعے یہ پوچھے جانے پر کہ حضرت آپ نے اس مشاعرے کی صدارت کیوں فرمائی؟

بڑا دل چسپ جواب ملا: اس لیے تاکہ کوئی خلاف شرع شعر ہو تو اس کی گرفت کی جا سکے۔

روناہی کی ملاقاتوں کا صدقہ تھا کہ اگلے سال سن 2007 میں جب جامعہ اشرفیہ جانا ہوا، حضرت والا سے تا فراغت گہرا لگاؤ رہا۔

اپنے خاص لہجے میں مولوی کہہ کر بلاتے تھے۔ آپ کی زبان سے نیم مسکراہٹ کے ساتھ یہ لفظ سننے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔

اس وقت آپ اکیلے ہوتے تھے لیکن رہائش فیملی کوارٹر میں تھی، اس لیے کبھی کبھار سودا سلف کے لیے بھی یاد فرماتے۔

ایک دن کہنے لگے مولوی! اعظم گڑھ چلنا ہے۔ کسی طالب علم کو دوران درس کہیں جانے کا بہانہ مل جائے، شاید اس کی نادانی کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا موقع نہ ہو۔ صبح کوئی گیارہ بجے کے آس پاس یہ دو نفری قافلہ ادارے سے نکلا اور واپس ہوتے ہوتے شام ہو چکی تھی۔ یہ تو یاد نہیں کہ ہم جس سیاسی رہ نما کے پاس گئے تھے، ان کا سیاسی قد کتنا بلند تھا اور وہ شخص کون تھے البتہ اس بچپن کا اتنا حصہ ضرور ذہن میں محفوظ ہے کہ وہ علاقائی سطح پر سپا کے کوئی بلند قامت انسان تھے۔

ہر چند کہ اس وقت ہمیں نہ سیاسی باتوں کی کوئی سمجھ تھی، نہ ضرورت تھی اور نہ ہی دل چسپی لیکن آج جب بھی اس ضیافت اور خاطر داری کا منظر نگاہوں میں گھومتا ہے، یہ احساس ضرور ہوتا ہے: ہمارے مفتی صاحب کی نگاہیں مسجد سے مدرسے تک محدود نہ تھیں بلکہ آپ اپنی ریاست کی سیاست بھی خوب سمجھتے تھے۔

سن 2009 میں فراغت کے بعد جامعہ حنفیہ نجم العلوم، مکرانہ میں تدریس کے دوران اپنی پہلی قلمی کاوش حکمت کے سرچشمے (مجموعہ چہل حدیث) پر تقریظ لکھنے کی فرمائش کی، جسے قبول فرمایا اور حوصلہ افزا کلمات سے نوازا۔

اس کے بعد ٹیلی فونک علیک سلیک کے علاوہ کوئی بہت زیادہ گہرا ربط نہ رہا البتہ ان پرانے تعلقات میں اس وقت دوبارہ تازگی آئی جب تربیت تدریس کے لیے جامعہ اشرفیہ جانا ہوا۔

تربیت تدریس کے دوران میری شرح عقائد کی تدریس میں آپ نگراں تھے۔ اس وقت آپ بکثرت مدرسے سے غیر حاضر رہا کرتے تھے لیکن جب کبھی آتے خیر خبر لیتے۔ دو ایک مرتبہ تدریس کے لیے بھی تشریف لائے۔

مجلس شرعی کے فقہی سمیناروں میں آپ کی شرکت بہت حساس ہوتی اور فقہی بحثوں میں گرما گرم حصہ داری نبھاتے۔

تربیت تدریس سے واپسی کے بعد فقہی سمیناروں میں آپ سے ملاقاتیں رہیں اور خوش مزاجی کے ماحول میں جیسی تیسی باتیں بھی۔

مفتی صاحب کی باتوں میں معقولیت کا غلبہ ہر کوئی محسوس کر سکتا تھا۔ جب بات کرتے تو فلسفیانہ لہجے میں اپنے مخاطب پر حاوی رہتے یا غالب رہنے کی کوشش میں نظر آتے جبکہ بارہا لہجے میں طنز بھی ہوتا اور کئی بار طنز کے ساتھ مزاح بھی ہوتا۔

فقہی جزئیات پر معقولی استدلال کے ساتھ جب کسی کی گرفت کرتے تو پھڑ پھڑانے کا موقع بھی نہ دیتے۔

مفتی صاحب کا یہ امتیاز رہا کہ آپ نے اپنے آبائی وطن میں بھی اپنا منفرد سیاسی مقام بنایا اور علاقائی سیاست میں حساس کردار ادا کرتے۔

ادھر جب آپ جامعہ اسلامیہ، روناہی کے نائب سربراہ اعلی منتخب ہوئے، ایک دن فقیر کو فون کیا اور دریافت فرمانے لگے:

کیا آپ جےپور چھوڑ سکتے ہیں؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ فرمایا: اگر نہیں چھوڑ سکتے پھر تو کیا کیا جائے۔

دراصل آپ روناہی میں تدریس کے لیے بلانا چاہتے تھے لیکن میری تنظیمی مصروفیات مجھے اپنی ریاست چھوڑنے کی اجازت نہ دیتی تھیں۔

آج آپ کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر اسی طرح کی کوئی درجنوں یادیں حاشیہ ذہن میں مچلنے لگیں لیکن افسوس کہ اب صرف یہ یادیں ہی رہ گئی ہیں، ان سے وابستہ شخصیت جاتی رہی۔ سفر و حضر، وطن اور بیرون وطن میں نے اپنے تجزیہ کے مطابق آپ کی شخصیت کو بڑا خلیق اور خوش مزاج پایا۔ اللہ تعالیٰ مغفرت اور بلندی درجات عطا فرمائے۔ یقیناً جانے والے میں بہت خوبیاں تھیں

 

تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی

چیرمین:- تحریک علمائے ہند، جے پور

مفتی صاحب کی تحریروں کو پڑھنے کے لیے کلک کریں

میڈیا کی گستاخیاں اور ہمارا رد عمل

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن