خوشبوئے مصطفی ﷺ
ہمارے آقاء ﷺکو پسندیدہ چیزوں میں سے ایک عزیز شئ خوشبو ہے ترمذی کی روایت میں ہے کہ آقائے کریم ﷺنے فرمایا مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو یعنی مہک ہو رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس میں رنگ ہو بو یعنی مہک نہ ہو ۔ فرمان مصطفی ﷺ سے معلوم ہوا کہ مردوں میں خوشبو مقصود ہوتی ہے کہ اس خوشبو کا رنگ ظاھر نہ ہو اور اس کی رنگت سے کپڑے رنگین نہ ہو جائے ۔عورتیں ہلکی خوشبو استعمال کریں اس لئے کہ عورتوں کو زینت مقصود ہوتی ہے اور یہ رنگین خوشبو مثلا خلوق سے حاصل ہوتی ہے اگر عورتیں تیز خوشبو استعمال کریں گیں تو اس سے خواہ مخواہ لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف متوجہ ہوں گئیں جو عورت اپنا بناو سنگھار اس نیت کے ساتھ کرتی ہیں کہ غیر مرد وں کے شوق ورغبت کا باعث بنیں اور اس کی طرف متوجہ ہوں تو یہ جہاں معلم کائناتﷺ کے ارشادات کے خلاف ہے وہیں مہذب وشریف سماج و خاندان کے بھی خلاف ہے البتہ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے لئے بناو سنگھار کرے تو ثواب کا کام ہے ۔
صاحب طبرانی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ ۔ ام عاصم رضی اللہ عنھا زوجہ عتبہ بن فرقد سلمی بیان کرتی ہیں کہ ہم چار 4 عورتیں عتبہ کی زوجیت میں تھیں ہم میں سے ہر ایک بڑھ کر عمدہ سے عمدہ خوشبو استعمال کر تیں اور اپنے شوھر کے قریب جاتیں تاکہ ہمارا خاوند ہمارے خوشبو سے مرعوب ہو جائیں لیکن ہم چاروں میں سے کسی کی خوشبو ہمارے شوہر کے خوشبو سے زیادہ تو کیا برابر تک نہ پہنچتی تھی حلا نکہ ہمارےخاوند عتبہ خوشبو کو اسی حد استعمال کرتے تھے کہ خوشبو کو اپنے ہاتھوں سے اپنی داڑھی میں ملتے تھے پھر بھی ان کی خوشبو ہم پر غالب آجاتی تھی اور جب وہ باہر نکلتے تھے اردگرد خوشبو سے مہک اٹھتا تھا۔
حضرت ام عاصم رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ ہم نے ایک دن اپنے شوہر عتبہ سے عرض کیا اے ہمارے سرتاج ہم سب آپ کی بیویاں خوشبو کے استعمال میں خوب کوشش کرتی ہیں پھر بھی آپ کی خوشبو تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اس کیا وجہ ہے ؟ تو ہمارے شوہر نے کہا کہ رسول خدا ﷺ کے زمانے میں مجھے ایک بار خارش کی بیماری ہوئ تھی دوائ کراتے کراتے عاجز آگیا تو اپنے آقاء دافع البلاء ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول ﷺ مجھے خارش کھجلی ہوگئ ہے آپ کوئ علاج فرمادیں تو آقاء ﷺ نے حکم فرمایا اپنے کپڑے اتار دو ۔جب ہم کپڑے اتار کر حضور ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے تو آقاء ﷺ نے اپنا دست کرم میری پشت وشکم پر پھیر دیا جس کی برکت سے خارش کی بیماری دور ہوگئ اور اس وقت سے آج تک میرے بدن سے خوشبو پھوٹ رہی ہے ۔
زمانے کے سارے مریضوں سے کہدو
مدینے میں آقاء دوا دے رہے ہیں
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ



