Homeمخزن معلوماتدرس تسلیم و رضا ہے قربانی

درس تسلیم و رضا ہے قربانی

تحریر : محمد رضوان قادری مصباحی درس تسلیم و رضا ہے قربانی

درس تسلیم و رضا ہے قربانی

نحمدہ ونصلی ونسلم علٰی رسولہ الکریم: 

ماہ ذی الحجہ کی دس ویں،گیارھویں اور بارھویں تاریخوں میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ عزوجل کے نام پر قربانیاں پیش کرتے ہیں۔

یہ قربانیاں حضرت سیدنا ابراہیم اور حضرت سیدنا اسمٰعیل علیھما السلام کی اس عظیم الشان قربانی کی یادگار ہیں جس میں شان عبدیت کا شان دار اظہارہے،کڑے امتحان میں بڑی کام یابی ہے

تسلیم ورضا اور صبرووفا کا لازوال درس ہے،اورہمارے لیے یہ پیغام ہے کہ بے نیاز رب کریم کو ہماری قربانیوں کی حاجت نہیں،وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کون اس کے حکم پر بےچون وچرا سر تسلیم خم کرتاہے اور کون اس کے حکم کے سامنے اپنی عقل کا گھوڑا دوڑاتاہے؟۔

تاکہ جو بلا تامل تسلیم پر آمادہ ہو اسے بے پناہ انعام واکرام سے نوازے اور جو اس کے حکم میں اپنی عقل کو دخل دے کر روگردانی کرے وہ ملعون بارگاہ وراندہ درگاہ ہو کر ہمیشہ کنکریاں کھاے۔ اب وہ آیات اور ان کا ترجمہ مع مختصر تفسیر پیش ہے،دھیان سے باربار پڑھیں ،سمجھیں اور دل میں اتارنے کی کوشش کریں۔

۔”رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِینَ“۔[ابراہیم علیہ السلام نے دعاکی]اے میرے رب!مجھے نیک اولاد عطا فرما ”فَبَشَّرنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیمٍ“۔تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی بشارت دی

۔[اس سے مراد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں،کیونکہ اسی مقام پر حضرت اسحٰق علیہ السلام کی بشارت کا ذکر آگے ہے۔

علما بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی پیداٸش ہوٸی اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 سال تھی]

۔”فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّی ارٰی فِی المَنَامِ اَنِّی اَذبَحُکَ فَانظُر مَا ذَا تَرٰی“ تو جب وہ ان کےساتھ کام کے قابل ہوا تو انھوں نے کہا:اے میرے پیارے فرزند!بے شک میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمھیں ذَبح کر رہا ہوں، تم بتاٶ تمھاری کیا راے ہے؟[انبیاے کرام کے خواب حق ہوتے ہیں;اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کی بنیاد پر اپنے فرزند کی قربانی دی۔

اس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی عمر کے سلسلہ میں کٸی اقوال ہیں۔ زیادہ سے زیادہ والا قول 13 یا 15سال کا ہے۔ گویا اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ایک سال کم یا بیش 100سال ہے۔ اور اس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اکلوتے فرزند ہیں۔سو سال کے بڑھاپے میں اکلوتے فرزند کو قربان کرنا کتنا صبر آزما ہو گا۔

لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیکر صبر ورضا بن کر بے چون وچرا قربان کرنے کو تیار ہیں۔اور فرزند سے پوچھنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ جہاں اللہ کا خلیل قربان کرنے کو تیار ہے وہیں ننھا اسمٰعیل برضا ورغبت قربان ہونے کو آمادہ ہے۔ چناں چہ اس فرزندارجمندنےرضاےالٰہی پر فداہونےکاکمال شوق سےاظہارکیا۔]

۔ ”قَالَ یٰأَبَتِ افعَل مَاتُٶمَرُسَتَجِدُنِی اِن شَاءَاللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِینَ“بولا:اے میرے اباجان!آپ کیجیے جس کا آپ کو حکم ملا ہے ،اللہ نے چاہا تو قریب ہےکہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پاٸیں گے۔ [سبحان الله سبحان الله! کیا شان تسلیم و رضا ہے !۔

یہ فیضانِ نظرتھایاکہ مکتب کی کرامت تھی

سکھاے کس نے اسمٰعیل کو آدابِ فرزندی

اظہار تسلیم ورضا کے بعد عرض کرتے ہیں:باباجان!ذبح سے پہلے میرے ہاتھ پیر باندھ دینا تاکہ آپ کے کپڑوں پر میرے خون کے چھینٹے نہ پڑنے پاٸیں،اور میرا چہرہ زمین کی طرف کردینا تاکہ میرا چہرہ دیکھ کر شفقت پدری جوش میں نہ آجاۓ اور حکم الٰہی کی تعمیل میں رکاوٹ بن جاۓ۔]

”فَلَمَّا اَسلَمَا وَتَلَّہٗ لِلجَبِينِ“تو جب دونوں نےسر تسلیم خم کیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایاتو اس وقت کا حال نہ پوچھ۔[یہ واقعہ منٰی میں واقع ہوا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حلقوم اسمٰعیل پر چھری بھی چلاٸی لیکن قدرت الٰہی کہ چھری نے کچھ بھی کام نہ کیا۔]

۔”وَنَادَینٰہُ اَن یّٰاِ برٰھِیمُ ،قَد صَدَّقتَ الرُّٶیَا اِنَّا کَذٰلِکَ نَجزِی المُحسِنِینَ ،اِنَّ ھٰذَالَھُوَالبَلٰٶُ المُبِینُ، وَفَدَینٰہُ بِذِبحٍ عَظِیمٍ“اورہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!بیشک تونےخواب سچ کردکھایا [اطاعت وفرمانبرداری کمال کوپہنچادی ،فرزند کو ذبح کے لیے بےدریغ پیش کردیا بس اتنا کافی ہے۔]۔

بے شک ہم نیکوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں،بیشک یہ روشن جانچ تھی۔اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا۔[جنت سے ایک مینڈھا حضرت جبریل علیہ السلام لے کر آۓ جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا۔] [سورہ صٰفّٰت آیت نمبر 100 تا 107]

ابن ماجہ نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ !یہ قربا نیاں کیا ہیں؟فرمایا کہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟۔

فرمایا ہربال کے بدلے نیکی ہے۔عرض کی اون کا کیا حکم ہے؟فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے۔

ابوداوٗد وترمذی وابن ماجہ ام المٶمنین حضرت عاٸشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روای کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم النحرہ[قربانی کے دن]میں ابم آدم کا کوٸی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے[قربانی کرنے]سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔

پھر ان قربانیوں میں رب کریم کا اس امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص انعام یہ ہے کہ ان کا کھانا اور کھلانا ہمارے لیے حلال فرمایا۔پچھلی امتوں میں قربانیاں کسی بلند جگہ رکھ دی جاتیں ،اگر مقبول ہو تیں تو ایک غیبی آگ آسمان سے آکر انھیں کھا جاتی ورنہ یوں ہی پڑی رہ جاتیں۔

توبمصداق ”ہم خرما وہم ثواب“[آم کے آم گٹھلیوں کے دام] قربانی کرکے ہم رضاے الٰہی اورثواب بھی پاٸیں اوراس کے گوشت سے لطف اندوز بھی ہوں۔

یاد رہے کہ قربانی اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مخصوص جانور کو مخصوص دنوں میں ذَبح کرنا ہے۔تو قربانی کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے ۔گوشت سے فاٸدہ پاناتو اللہ کی جانب سے تحفہ ہے۔کہ ان دنوں میں رب کریم نےسیدالطعام سے ہم اہل ایمان کی ضیافت کا انتظام فرمایا کیونکہ یہ دن اللہ کی مہمانی کے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔

اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ”لَن یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُومُھَا وَلَادِمَا۶ُھَا وَلٰکِن یَّنَالُہُ التَّقوٰی مِنکُم“ یعنی ان قربانیوں کے گوشت اور ان کے خون ہرگز اللہ کو نہیں پہنچتے لیکن تمھارا تقوٰی اس کی باگاہ میں باریاب ہوتاہے۔[سورہ حج] اور ”اِنَّمَایَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ المُتَّقِینَ“ کہ اللہ صرف تقوٰی والوں سے قبول فرماتا ہے۔[سورہ ماٸدہ]

لہٰذا پاک مال سے رضاے الٰہی پانے کے لیے خوش دلی سے قربانیاں کریں۔اور اپنے اندر جذبہ تسلیم و رضا اور شیوہ صبر و وفا پیدا کریں۔

آج بھی ہوجو براہیم سا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

تحریر: محمد رضوان قادری مصباحی

استاد مدرسہ نثارالعلوم شہزاد پور اکبرپور

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن