از قلم : مفتی خبیب القادری مدنا پوری زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے
۔23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے ” موت العالم موت العالم “حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھر پائی مشکل ہے
ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا ” اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے