Home شخصیات حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں

حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں

0
حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں
حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں

از محمد ایوب مصباحی حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں (قسطِ اول)۔

حضرت حسنین کریمین کا مقام احادیث کریمہ کی روشنی میں


جب محرم الحرام کا مقدس مہینہ آتاہے تو نواساے رسول حضرتِ امامِ حسن اور امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ آپ نے خلافت سے دست بردار ہوکر اسلام کی شیرازہ بندی کی اور تمام گھربار لٹاکر میدانِ کرب و بلا میں اپنے نانا جان کے دین کی حفاظت فرمائی، اور ظالموں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنادیا اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ


نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائےگا


اور ایسا کیوں نہ جب اس دینِ متین کے اتمام کی ذمہ داری پروردگار نے لے رکھی ہے:”کہ کافر تو یہی چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھادیں، اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا اگرچہ کافروں کو برا کیوں نہ لگے۔
آج ہم اسی ذواتِ مقدسہ حسنین کریمین (علیہما السلام کے فضائل و مناقب احادیث کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

حسنین کریمین کے نام نبی نےخود رکھے

طبرانی کی معجم الکبیر ج:٣،ص:٩٧ پر حضرتِ سالم بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، کہ “اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے ان دو بیٹوں حسن اور حسین کے نام ہارون علیہ السلام کے دو بیٹوں شبر و شبیر کے نام پر رکھے ہیں۔”۔

اس کتاب کو خریدنے کے لیے کلک کریں

حسن اور حسین جنت کے دونام ہیں جنھیں اللہ تعالی نے پردہ راز میں رکھا
علامہ ابنِ اثیر کی “اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ” میں ج:٢،ص:١٣ پر حضرتِ مفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ اللہ تعالی نے حسن و حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا، یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔” امامِ حسن اور امامِ حسین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں

امام حاکم کی “المستدرک” میں ج:٣،ص:١٨۰ پر حضرتِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں:کہ “ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی: علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ان کو ساتھ لے گئے ہیں ،نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انھیں پانی پینے کی جگہ کھیلتے ہوئے پایا، اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا:اے علی! خیال رکھنا، میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لےآنا ۔”
حسنینِ کریمین علیھما السلام اہلِ بیتِ اطہار سے ہیں

امام طبرانی کی “المعجم الصغیر” میں ج:١،ص:٢٣پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:(“اے نبی کے گھر والو! یقینا اللہ یہی چاہتاہے کہ تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کردے، اور تمھیں خوب پاک وصاف کردے”)کے بارے میں فرماتے ہیں:یہ آیتِ کریمہ ان پانچ ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی:حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرتِ علی، حضرتِ فاطمہ اور حسنینِ کریمین (رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین)۔
امامِ حسن و امامِ حسین لوگوں میں سب سے بہترین نسب والے ہیں

۔”تاریخِ دمشق” لابنِ عساکر میں ج:١٣،ص:٢٢٩ پر حضرتِ عبد اللہ ابنِ عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنھما) سے روایت ہے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے لوگو! کیا میں ان لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو اپنے نانا نانی کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے چچا اور پھوپھی کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں؟

کیا میں تمھیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو اپنے ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمھیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو اپنے ماں باپ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں؛ ان کے نانا اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)،ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اللہ، ان کےوالد علی بن ابی طالب، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنتِ ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول اللہ اور ان کی خالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں(زینب، رقیہ اور ام کلثوم) ہیں۔ان کے نانا، والد، والدہ، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ سب جنت میں ہوں گے۔اور دونوں(حسنینِ کریمین) بھی جنت میں ہوں گے۔

حسن و حسین (علیہما السلام) نبی کے گلشنِ دنیا کے دو پھول

بخاری شریف، کتاب الادب، رقم:۵۶۴٨ پر حضرتِ عبد الرحمن بن ابی نعم سے روایت ہے، کہ ایک عراقی شخص نے حضرتِ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے پوچھا کہ مچھر پر خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ حضرتِ عبد للہ بن عمر نے فرمایا:اس کی طرف دیکھو، مچھر کے خون کا مسئلہ پوچھتاہے حالاں کہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرتِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیاہے۔اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے:حسن و حسین میرے گلشنِ دنیا کے دو پھول ہیں۔

فائدہ: حاکم نےاس حدیث کی اسناد کو صحیح ٹھرایا ہے جب کہ شیخین نے اس کی تخریج نہیں کی۔(مرجعِ سابق)۔

سراپا ہم شبیہِ مصطفی تھے حسنینِ کریمین (علیھما السلام)۔علامہ ابنِ حجر عسقلانی کی “الاصابہ فی تمیز الصحابہ” میں ج:٢،ص:٧٧ پر فاتحِ خیبر حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں:”جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے چہرے تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حسن بن علی کو دیکھ لے اور جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگت اور صورت دونوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنھما کو دیکھ لے۔”

حضرتِ امامِ حسن اور امامِ حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنھما) تمام جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
جامع ترمذی،ابواب المناقب،ج:۵،ص:۶۶۰ اور امامِ نسائی کی “السنن الکبریٰ” ج:۵،ص:١٨۰ پر حضرتِ حزیفہ ابن الیمان سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں: کہ “میری والدہ نے مجھ سے پوچھا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میرا حاضری کا معمول کیا ہے؟ میں نے کہا:کہ اتنے دنوں سے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمتِ اقدس میں حاضر نہ ہوسکا،

وہ مجھ سے ناراض ہوئیں، میں نے کہا:مجھے اجازت دیجیے کہ میں ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں، ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں گا اور ان سے عرض کروں گا:کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، پھر میں رسولِ گرامی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا۔

اور آپ کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کی، پھر حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل ادا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشا کی نماز ادا فرمائی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف روانہ ہوئے تو میں آپ کے پیچھے چلنا لگا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا:”یہ کون ہیں؟”۔

حذیفہ! میں نے عرض کیا:جی ہاں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمھاری کیا حاجت ہے؟ اللہ تعالیٰ تمھیں اور تمھاری ماں کو بخش دے۔پھر فرمایا:یہ ایک فرشتہ ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہیں اترا، اس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ مجھے سلام عرض کرے اورمجھے بشارت دے کہ فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔

محمد ایوب مصباحی
استاذ دار العلوم گلشنِ مصطفی بہادر گنج، سلطان پور، مراداباد، یو۔پی۔ہند
رابطہ نمبر:8279422079

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here