بعض جگہ بالخصوص علاقہ گوال پوکھر اتر دیناج پور میں پھیلے ہوئے خرافات اور غلط فہمیوں کی تزلیل و تردید بنام احسن الکلام فی اصلاح العوام میت کی قبر میں کن کو اتارا جائے ؟
میت کی قبر میں کن کو اتارا جائے ؟
سوال
ہمارے علاقہ گوال پوکھر میں عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ میت چاہے مرد کی ہو یا عورت کی اُس کو قبر میں اُتارنے کے لیے کسی بھی شخص کو قبر میں اُتار دیا جاتا ہے کیا یہ درست ہے؟
جواب
ہرگز نہیں ! بلکہ میت اگر مرد ہوں تو بہتر و مناسب یہ ہے کہ اس میت کو قبر میں اتارنے کے لیے اس کی قبر میں وہ لوگ اتریں جو جو طاقت ور ،متقی و پرہیز گار اور امین ہوں ۔ تاکہ اگر میت کی جانب سے کوئی نامناسب بات (جیسے میت کو رکھتے ہی اس کے چہرے کا سیاہ ہوجانا وغیرہ اس طرح کی کوئی بات) دیکھے تو لوگوں پر ظاہر نہ کرے۔
اور اگر میت عورت ہوں تو اس کی قبر میں اس عورت کے محارم (یعنی جن سے اس عورت کا نکاح حرام تھا) ہوں وہ اتریں اگر یہ نہ ہوں تو کوئی قریبی رشتے دار اتریں اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو مسلمانوں میں سے جو متقی و پرہیز گار ہوں وہ قبر میں اتریں۔
(بہار شریعت حصہ چہارم ، ص: 844۔ بحوالہ فتاوی عالمگیری ، کتاب الصلوة ، باب الحادی والعشرون فی الجنائز ، الفصل السادس، جلد اول ،ص: 166)
یہ بالکل غلط بات ہے کہ کسی کو بھی کسی کی قبر میں اتار دیاجاتا ہے ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ کریں جو اوپر مذکور ہوا ۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق دے ۔ آمین۔ فقط واللہ سبحانہ تعالی ورسولہ الاعلی ﷺ اعلم ۔
11/ جنوری 2022 عیسوی ۔
نوٹ
کہیں کوئی غلطی نظر آئیں تو اصلاح سے نواز کر ممنون و مشکور فرمائیں۔