تحریر ✍️ سلیم رضا عطاری قوم شعیب علیہ السلام کی نافرمانیاں
قوم شعیب علیہ السلام کی نافرمانیاں
تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے،کہ جس قوم نے بھی اپنے منعمِ حقیقی عزوجل کے احکامات سے روگردانی کی وہ ذلیل و رسواء ہوئ، پستی و تنزلی اس کا مقدر ہوا ایسی ہی ایک قوم حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تھی
یہ قوم جہاں ایمان نہ لاکر حقوق اللہ کی پامالی کر رہی تھی ، وہیں ناپ تول میں کمی،لُوٹ مار، رہزنی، ڈرانا دھمکانا، زمین پر فساد جیسے گھناؤنے جرائم کی مرتکب ہوکر حقوق العباد کی دھجیاں بکھیر رہی تھی۔
قرآنِ مجید فرقان حمید میں قومِ شعیب علیہ السلام کے تین طرح کے عیوب کا تذکرہ موجود ہے
۔1 وہ لوگ کفروشرک میں مبتلا تھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔ جب شعیب علیہ السلام نے انہیں ایک خدا کی عبادت کا حکم دیا تو انہوں نے جوابا کہا أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا (87) قَالَ کیا ہم ان کی عبادت کرنا چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آباد و اجداد کرتے رہے ہیں۔ (سورۂ ھود آیت نمبر 87)
۔2۔ بیوپار میں بے ایمانی اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔
جب شعیب علیہ السلام نے اس فعلِ قبیح کے بارے میں فرمایا ، وَيَٰقَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اور اے میری قوم! انصاف سے ناپ اور تول کو پورا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ مچاؤ۔
تو انہوں نے کہا أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ۖ یعنی کیا ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔
ان کی اس بات کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے مال میں خود مختار ہیں ، چاہے کم ناپیں ، چاہے کم تولیں ، ہمارا ہی تو مال ہے۔ معاذاللہ ( صراط الجنان ، سورۂ ھود آیت نمبر 87 ) ہے
۔3 ۔راستوں میں بیٹھ کر لُوٹ مار کرتے، لوگوں کے اموال چھینتے اور غنڈا ٹیکس وصول کرتے تھے ، ان سے فرمایا گیا وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ لیکن وہ ہے درپے نافرمانیاں کرتے رہے
اور ان کی ایک ایک بہت بڑی نافرمانی یہ تھی کہ وہ شعیب علیہ السلام کے وعظ و نصیحت کو سن کر مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام اللہ عزوجل کی وحدانیت ، اور ناپ تول میں کمی، پر جو دلائل پیش کرتے تو یہ لوگ کہتے تھے کہ یہ دلائل ہماری سمجھ میں نہیں آتے، اس لیے ہمارے نزدیک تم کوئ معزز شخص نہیں ہو،
اس سے ہمارے قوم کے وہ لوگ جنہیں اسلام کے احکامات پر کوفت ہوتی ہے ، کہ کسی کو سود کی حرمت ہضم نہیں ہوتی تو کسی کو پردے کی پابندی وبال جان لگتی ہے، اور کسی کو حقوق اللہ کی ادائیگی اور عبادات کی پابندی پر مذاق سوجھتا ہے
ایسے لوگوں کو اپنے اقوال وافعال کو قوم شعیب علیہ السلام کے ساتھ ملاکر دیکھ لینا چاہیے کہ یہ اسی کافر قوم کے نقش قدم پر تو نہیں چل رہے ہیں۔
لھذا ہمیں چاہیے کہ احکامات شرعیہ پر ہمیشہ عمل پیرا رہیں، اطاعت خداوندی، اور اتباع رسول ہی میں ہمارے لیے نجات ہے، قومِ شعیب کی پستی و تنزلی کا سبب رسول علیہ السلام کی نافرمانی تھا، عصر حاضر میں بھی اگر سنتوں کے مطابق زندگی کے لمحات گزارے جائیں۔
اس مضمون کو ضرور پڑھیں: دعوت اسلامی میں فکر رضا کی سامانیاں
اسلامی احکامات کی پاسداری کی جاے تو ہمارا معاشرہ پھر کھویا ہوا وقار حاصل کرسکتا ہے، سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا ایک بہترین ذریعہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی سے وابستہ ہوجانا بھی ہے ، کہ جو افراد اس تحریک سے مربوط ہوجاتے ہیں وہ سنتوں پر عمل کرنے اور کروانے والے بن جاتے ہیں
مالکِ کریم ہمیں اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا وفادار بناے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق رفیق مرحمت فرماے آمین بجاہ طہ و یاسین
۔ ✍️ سلیم رضا عطاری
متعلم : جامعۃ المدینہ احمد آباد
درجۂ سادسہ+ سابعہ
ان مضامین کو بھی پڑھیں