آہ جنت کے شہدوں کو سلام
مولانا نظام الدین احمد علیہ الرحمہ کمشنری گور کھ پور کی شمع روشن تھے
اللہ مرحوم کی بخشش فرماۓ اور قوم کو ان کے امثال سے نوازے۔
بسم الله الرحمن الرحيم
حامدا و مصليا و مسلما
شمالی ہند کا خطہ کمشنری گورکھ پور زراعت اور کاشت کاری کے اعتبار سے کافی زرخیز ہے لیکن سوۓ اتفاق علمی اعتبار سے یہ منطقہ اتنا مردم خیز نہیں۔ آج سے چالیس سال پہلے کمشنری گورکھ پور کے چاروں اضلاع کے علما کے نام انگشتہاۓ دست پر شمار کرانا مشکل نہ تھا۔لیکن اس علاقے پر ابوالفیض، حافظ ملت علامہ شاہ عبد العزیز محدث مبارک پوری اور شعیب الاولیاء علامہ رحمھما اللہ کے انوار تجلیات سے علمی شمعیں روشن ہوئیں اور ان اضلاع کی علمی آبیاری ہوئی ۔
یہ الگ بات ہے کہ ابھی بھی اس کی زرخیزی ، مردم خیزی پر حاوی ہے ۔
خطیب الاسلام حضرت مولانا نظام الدین احمد نوری اسی کمشنری گور کھ پور کے ضلع مہراج گنج کے ایک علمی فرد تھے ۔ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کے تعلیم یافتہ عالم دین اور اس ادارہ کے موقر استاذ و مفتی تھے ، ساتھ ہی ساتھ بہترین خطیب ، اچھے شاعر اور صاحب قلم بھی تھے ۔
اپنی خطابت کی وجہ سے شمالی ارض ہند کے کثیر علاقوں میں مشہور و متعارف تھے ۔ عرصہ دراز سے درس و تدریس سے منسلک رہے اور کثیر تلامذہ کی جماعت تیار کی جو مسلک و ملت کی خدمات میں مصروف عمل ہے ۔ شعر وادب کا بھی خاصہ ذوق تھا۔ ان کا شعری مجموعہ متاع بخشش (غیر مطبوعہ ) اس پر شاہد ہے ۔ انھیں قلمی ذوق بھی حاصل تھا اور شروح و حواشی لکھنے کا بھی شغل تھا۔ شریعت اور صوفی ، مذکورات شرح منثورات ، انہج التشریحات شرح مرقات اور اصول فقہ نامی کتابیں بطور یادگار چھوڑی ہیں ۔
مولانامرحوم میرے ہم نام ہونے کے ساتھ پیر بھائی بھی تھے ۔ انھیں بھی بیعت کا شرف سیدی و سندی و مرشدی حضور مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخان نوری، بریلوی علیہ الرحمہ سے حاصل تھا۔ ہم وطن ہونے میں بھی ضلعی اعتبار سے پڑوسی تھے کشی نگر کے پڑوسی ضلع مہراج گنج کے موضع بڑہرا کندھئی تھانہ پور ندر پور میں ۵ فروری ۱۹۶۲ء میں آنکھ کھولی۔ مدرسہ عربیہ اہل سنت نور الاسلام سے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا جو دارالعلوم بر کاتی مؤید الاسلام مگہر ضلع بستی ہوتے ہوۓ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف پر اختتام پذیر ہوا۔
۱۴۰۳ھ/۱۹۸۲ء میں فراغت کے بعد مدرسہ عربیہ اہل سنت معراج العلوم بهد وکھر بازار سدھارتھ نگر ، دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات ، دارالعلوم عربیہ اسلامیہ اہل سنت سعدی مدن پور اور دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف (۱۹۹۹ء تاحین حیات ) درس و تدریس سے وابستہ رہے۔
افسوس صد افسوس ۲۲ شوال المکرم ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۴ مئی ۲۰۲۲ بروز منگل صبح کے وقت ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگیے ۔اس ناگہانی حادثہ میں مولانا مرحوم کے ساتھ ان کے جواں سال صاحبزادے مولانا انوار احمد عرف منے بابوجی راہی ملک عدم ہوگے ۔انا للہ و انا اليه رٰجعون
سچ ہے
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
میں اس غم کی گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ شریک ہوں ۔ اللہ عزوجل حضرت مولانا نظام الدین احمد نوری رحمہ اللہ اور ان کے شریک سفر صاحب زادے کو غریق رحمت فرماۓشمیم جنت کی راحتیں نصیب فرماۓ ،ان کی دینی خدمات قبول فرماۓ اور ان کے جملہ پس ماندگان ، تلامذہ اور متعلقین خصوصا اساتذہ، طلبہ وار کان دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطافرماۓ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
محمد نظام الدين الرضوی
شیخ الحدیث و صدر مفتی جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۲۳ شوال المکرم ۱۴۴۳ھ/۲۵ فروری ۲۰۲۲ء، چہار شنبہ، بعد فجر
نزیل حال: جامعہ غوشیہ اسمائیل حبیب مسجد ،ممبئی
- اعلیٰ حضرت کے تعلیمی افکار کی عصری معنویت
- اعلیٰ حضرت بحیثیت مسلم سائنس داں
- اعلیٰ حضرت اور اسلامی اخلاق ومساوات
- کیوں رضا آج گلی سونی ہے اٹھ مرے دھوم مچانے والے
- غزوۂ بدر : ناموس رسالت ﷺ کے لیے جاں نثاری کا تابندہ باب
- تعلیمات حضرت خواجہ غریب نواز اور آپ کے اخلاق حسنہ
- مفتی نظام الدین نوری کے انتقال سے علماے کرام کو صدمہ